امریکہ ایران مذاکرات کے تیسرے دور کے امکان کے پیش نظر پاکستان کے ایرانی اسپیکر محمدباقر قالیباف اور سید عباس عراقچی کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی عراق کی ان اعلیٰ شخصیات کو دعوت پاکستان کے اسپیکر ایاز صادق اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ذریعے دی گئی ایران آج بھی پاکستان کو ہی اپنا بنیادی ثالث قرار دیتا جس کی بناء پر ایران سے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کی ضرورت محسوس کی گئی اس ضمن میں اسحاق ڈار کے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے رابطے کے بعد دونوں شخصیات کوُپاکستان آنے کے دعوت نامے پیر کی رات پہنچ دئے گئے تھے تاہم ابھی ایرانُکی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ یہ دونوں شخصیات پاکستان کب تک آئین گی کیونکہ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے پر دونوں وزارئے خارجہ نے عالمی اور علاقائی واقعات پر تبادلہ خیال کی گیا اور خصوصی طور پر مشرقی یروشلم کی ناقص صورت حال بھی زیر غور آئی پاکستان دفتر خارجہ کے جانب سے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں معزز شخصیات کو جلد از جلد پاکستان دورہ کرنا چائیے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ دورہ کب تک ممکن ہو سکے گا کیونکہ عباس عراقچی چالیسویں کے سلسلے میں عراق میں تھے حالیہ حملوں کے دوران پاکستان نے بظاہر پہلے مرحلے میں ثالثی کی کوششوں کی نسبت خاموشی اختیار رکھی لیکن بیک چینل میب قطر کے ساتھ ملک کر تیرہ روزہ حملوں کے دوران سیز فائر میں اپنا کردار بھی ادا کیا صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کو ایک اور بڑے حملے سے پہلے ایران کو ثالثی کا ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں ٹرمپ نے ابنائے ہرمز پر امریکی فوج کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا ہے جبکہ جگہ اور شرکاء کے ناموں کا تذکرہ کئے بغیر صدر ٹرمپ نے مذاکرات کل تک دوبارہ شروع ہونے کاُدعوی بھی کیا ہے
امریکہ ایران مذاکرات کا تیسرا دور،اہم پیشرفت
Lahore 32°C
Karachi 27°C


