اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتے تھے، تاہم ریاست کے حوالے سے ان کے بیان کے بعد ان کے دل میں وہ احترام باقی نہیں رہا۔
محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اور یہ تاثر دیا گیا کہ وہ ایران کسی دفاعی معاہدے کے لیے گئے تھے، جبکہ ان کے مطابق دورے کا مقصد موجودہ بحران کے تناظر میں بات چیت کرنا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع سے بھی اس معاملے پر سوال کیا گیا، تاہم انہیں اس حوالے سے علم نہیں تھا کیونکہ دورے کے دوران دفاع سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیراعظم نے انہیں خصوصی ذمہ داری سونپی تھی، جس کے تحت وہ ایران گئے تھے۔
محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے اداروں سے متعلق بیانات پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو تنقید کرنے کے ساتھ جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض لوگ ریاست سے فائدہ ملنے تک اس کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن فائدہ نہ ملنے پر مخالفت شروع کر دیتے ہیں۔
اجلاس کے دوران کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ کے استعمال کردہ الفاظ پر اعتراض بھی کیا۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے گزشتہ کئی دنوں سے ان پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ مولانا فضل الرحمان کی دل سے عزت کرتے تھے، لیکن مولانا کے اس بیان کے بعد کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں، ان کا احترام ختم ہو گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کے اس سوال کا بھی حوالہ دیا جس میں وزیر دفاع کے ایران نہ جانے کے حوالے سے استفسار کیا گیا تھا۔ محسن نقوی کے مطابق وزیر دفاع کو دورے کے دوران دفاعی معاملات پر بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے اس بارے میں علم نہیں تھا۔
Lahore 25°C


