ملک میں تیز رفتار صنعتی ترقی کے نتیجے میں دولت کی غیر مساوی تقسیم بڑھنے لگی اس طرح ملک کی دولت رفتہ رفتہ مغربی پاکستان کے چند گھرانوں تک محدود ہو کر رہ گئی عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ ملک کی تمام دولت مغربی پاکستان کے 22 صنعتی خاندانوں کے ہاتھوں میں جمع ہو گئی ہے جس کے سبب مغربی پاکستان میں ظاہر ہے ترقی اور خوشحالی کی رفتار نسبتا زیادہ تیز تھی چنانچہ مشرقی پاکستان کے عوام نے ان صنعت کار خاندانوں کو تمام تر استحصال اور حق تلفی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مغربی پاکستان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا شروع کر دیا جس کا بنیادی سبب دونوں صوبوں میں معاشی اور اقتصادی عدم مساوات اور تفاوت کے علاوہ یہ بھی تھا کہ ایوب حکومت کو مسلح افوج کی تائید و حمایت حاصل تھی جس کی اکثریت کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا

مارشل لاء کا بنیادی مقصد ملک سے کرپشن اور عنوانیوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا تھا جیسا کہ ایوب خان نے اعلان کیا تھا لیکن یہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ اس کے برعکس ایوب خان کی نام نہاد آئینی حکومت کے دوران کرپشن اور بدعنوانی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی دراصل بنیادی جمہوریتوں کا نظام اس تمام کرپشن کا بنیادی سبب تھا جس سے ملک کے ہر گوشے میں بدعنوانیوں کو فروغ حاصل ہو رہا تھا تاہم ایک تاثر یہ بھی تھا کہ حکومت خود ان بی ڈی ممبرز کی بدعنوانیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ صدر کا انتخاب ان ہی بی دی میمبرز کے ووٹ سے ہوتا تھا  اسی کے ساتھ ساتھ ایوب خان کی مسلح افواج کو ہر قیمت پر راضی رکھنے کی پالیسی نے بھی ان کے خلاف رفتہ رفتہ عوامی ناراضگی کو جنم دیا جس کے تحت افواج کو زمینیں دی جا رہی تھیں ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کر دیا گیا تھا اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں ملازمتیں دی جا رہی تھیں 

 ان تمام عوامل نے مل کر حکومت کے خلاف شدید ناراضگی اور نفرت کے جذبات پیدا کر دیے تھے پورا ملک بے چینی اور بے اطمینانی کا شکار تھا کہ اسی اثنا میں سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا اور ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں پورے زور و شور کے ساتھ شامل ہو گئے اپوزیشن نے اپنی تحریک کا پہلا ہدف صوبائی گورنروں اور ان کی جانب سے ایمرجنسی کے تحت اختیارات کے ناجائز استعمال کو قرار دیا چنانچہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر ایمرجنسی اٹھا لینے کا مطالبہ کر دیا اور یونائٹڈ نیشنل کمانڈ کے نام سے ایک مشترکہ جماعت قائم کر لی ذولفقار علی کی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی نے اس میں شنولیت اختیار نہیں کی تاہم جمہوریت کی بحالی اور دولت کی غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ تقسیم کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت مخالف مہم برابر جاری ہے