مارچ 1969 کی شام جنرل آغا محمد یحییٰ خان، کمانڈر اِن چیف پاکستان آرمی، نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے ابتدا میں صدر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، مگر 4 اپریل 1969 کو انہوں نے یہ عہدہ سنبھال لیا۔ جنرل نے جن مقاصد کے تحت حکومت سنبھالی تھی، ان میں یہ مقصد شامل نہیں تھا کہ وہ خود ہمیشہ اقتدار میں رہیں گے یا ان کے عہدِ حکومت میں کوئی نیا نظام قائم ہوگا۔ یہ بات 7 اکتوبر 1958 کو اقتدار سنبھالنے والے فیلڈ مارشل، جو اس وقت جنرل تھے، کے عزائم اور مقاصد سے بالکل مختلف تھی۔ اس وقت کے صدر نے اپنے خطاب میں مارشل لا کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ سیاست دان ناکام ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو جمہوریت کی بحالی قرار نہیں دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ یہ ایک ایسے نئے نظام کا آغاز ہے جو ملک کو بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔
جنرل یحییٰ نے 26 مارچ 1969 کو اپنے خطاب میں کہا کہ مارشل لا کے نفاذ کا میرا واحد مقصد عوام کی زندگی، آزادی اور مال کا تحفظ ہے اور ملک میں انتظامیہ کو دوبارہ رواں دواں کرنا ہے۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے میرا اولین اور اہم ترین کام نظام کی بحالی اور اس بات کی یقین دہانی ہے کہ انتظامیہ اپنے روزمرہ کے معمولات عوام کی تسلی کے مطابق شروع کر دے۔ ہم نے انتظامی خرابی اور بدامنی کا کافی تجربہ کر لیا۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ایسی خرابی اور بدامنی کبھی دوبارہ پیدا نہ ہو۔ انتظامیہ کے ہر فرد کو میری اس تنبیہ کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
میرے ہم وطنو! میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میرا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں کہ ایک آئینی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ایک معقول، تعمیری سیاسی زندگی اور حتمی رائے دہی کے منصفانہ طریقے سے منتخب نمائندوں کے درمیان اختیارات کی باآسانی منتقلی کے لیے صاف، شفاف اور ایماندار انتظامیہ کا قیام بہت ضروری ہے۔ ان منتخب نمائندوں کا ہدف ایک قابلِ عمل آئین کا اصول ہوگا اور ان تمام سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا حل بھی جو عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔
اس بنا پر جنرل یحییٰ کی حیثیت محض قائم مقام کی تھی، جو ملک میں لاء اینڈ آرڈر بحال کرنے اور جلد از جلد اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپنے کے لیے آئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہ خود ایک نئے آئین کا اعلان کرتے یا آئین کی تشکیل کے لیے کوئی انتظامی مشینری قائم کرتے۔
درحقیقت لاء اینڈ آرڈر حیرت انگیز تیزی سے بحال ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ مارشل لا نظام کی سخت سزاؤں کی بدولت یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک بڑے ہجوم کو ایک وقت میں اکٹھا کر لیا جائے یا سیاسی تحریکوں اور مظاہروں کے لیے لوگوں کو جلوسوں اور ہڑتال کے لیے اکسایا جا سکے۔ اس وقت لوگوں کے جذبات کا رخ صرف اس سمت تھا کہ ان کی تحریک اور جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور ایوب خان کا اقتدار اور آئین عوامی تحریک کے نتیجے میں ختم ہو گئے۔ خیال یہ ہے کہ لوگ یقین رکھتے تھے کہ مارشل لا بذاتِ خود کوئی پسندیدہ چیز نہیں، لیکن ملکی سلامتی اور آئندہ آئینی استحکام کے لیے یہ قدم ناگزیر تھا۔ 1958 کے تجربے کے نتائج نے لوگوں میں ایک ایسے اندھے اعتماد کو جنم دیا کہ انہوں نے مارشل لا کو تمام خرابیوں کے خاتمے کا حتمی علاج سمجھ لیا، جس نے آگے چل کر ڈکٹیٹر شپ کی راہ اختیار کر لی۔
جنرل یحییٰ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل امن و امان کی صورتِ حال اتنی تیزی سے خراب ہوئی کہ جنرل یحییٰ کا اقدام متوقع اور ناگزیر سمجھ لیا گیا۔ ملک کے بدتر حالات نے جنرل کے حق میں راہ ہموار کر دی اور ایک ایسا منظرنامہ تیار ہو گیا جس کے لیے لوگ ذہنی طور پر تیار تھے۔ یہاں تک کہ نومبر 1969 آ گیا اور جنرل یحییٰ نے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران انہوں نے تمام سیاسی شخصیات سے ملاقات کی تاکہ الیکشن سے پہلے آئین میں تمام ضروری ترامیم کی جا سکیں۔ اس اقدام کی توجیہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ دراصل یہی وہ معاملہ ہے جس پر اتفاقِ رائے اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ باقی کام عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ الیکشن کے بعد کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اکتوبر 1970 کو انتخابات ہوں گے اور یکم جنوری 1970 سے سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔ 31 مارچ 1970 تک تمام قانونی لائحۂ عمل تیار کر لیا گیا اور انتخابی عمل کے لیے مغربی پاکستان کے ون یونٹ کو توڑ دیا گیا۔ دیگر بنیادی معاملات، جن کے بارے میں کہا گیا کہ اتفاقِ رائے سے انجام پائیں گے، ان میں نئے آئین کے باب میں وضاحت کی گئی کہ یہ وفاقی، پارلیمانی طرز کا ہوگا۔ انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے۔ بنیادی انسانی حقوق کے نفاذ کو عدالتوں کی مدد سے یقینی بنایا جائے گا۔ عدلیہ کی آزادی اور اس کے بحیثیت آئین کے نگران کردار کی حفاظت کی جائے گی۔ آئین کی اساس اسلامی نظام ہوگا، جو نظریۂ پاکستان کی بنیاد ہے۔
جہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئینی نظام کی جلد بحالی اور عوامی نمائندوں کو اقتدار سونپنا ہی اصل مقصد تھا تو جنرل یحییٰ کے اختیار میں آنے کے 18 ماہ بعد، یعنی 5 اکتوبر 1970 کو الیکشن کا اعلان کیوں کیا گیا، حالانکہ امن و امان کی صورتِ حال بہت جلد بحال ہو گئی تھی؟ یہ درست ہے کہ آئینی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے انہوں نے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جنرل یحییٰ نے ایوب دور کے رہنما اصولوں سے ہی استفادہ کیا اور انہی خطوط پر کام کیا جو بعد میں نااتفاقی کا سبب بنے۔
اس عرصے میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو منظم کرنے یا سیاسی مہم کی اجازت کا تو سوال ہی پیدا ہوتا تھا۔ ان حالات میں یہ سمجھنا دشوار تھا کہ ان مذاکرات سے کون سی کامیابی متوقع تھی۔ واحد نقطہ جس پر گول میز کانفرنس میں اتفاق کیا گیا، ون یونٹ کا خاتمہ تھا۔
28 نومبر 1969 کی نشری تقریر میں جنرل یحییٰ نے تین متبادل حل پیش کیے: نمبر ایک، آئینی کنونشن بلایا جائے؛ نمبر دو، 1956 کے آئین پر نظرِ ثانی کی جائے؛ نمبر تین، آئینی اصلاحات کے بارے میں ریفرنڈم کیا جائے۔
پہلا راستہ انہوں نے خود ہی مسترد کر دیا، کیونکہ بقولِ ان کے انتخابات کے انتظامات ہو چکے تھے۔ ان میں دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا، جس کے نتیجے میں منتقلیِ اقتدار کا عمل غیر ضروری تاخیر کا شکار ہو گیا۔ 1956 کا آئین مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس میں ون یونٹ کی شرط موجود تھی، جو ان کے مطابق مزید قابلِ قبول نہیں تھی۔ یہ ایک اہم تبدیلی تھی جو اسمبلی سے باہر عمل میں لائی گئی۔
یہ واضح ہے کہ اگر ون یونٹ کی مخالفت میں ہم آہنگی پائی جاتی تھی تو 1956 کے آئین میں ان کی منتخب کردہ اسمبلی آئین میں ترمیم کے ذریعے ون یونٹ کو توڑ سکتی تھی۔ مسئلے کا تیسرا حل، یعنی ریفرنڈم، جنرل کے مطابق اس وقت ممکن ہوتا جب معاملات نہایت سادہ اور سہل ہوتے اور ان کا جواب ہاں یا نہیں میں باآسانی دیا جا سکتا۔ آئین جیسے اہم مسئلے کے لیے یقیناً یہ کوئی درست حل نہیں تھا۔
بعد ازاں دیکھا گیا کہ لیگل فریم ورک آرڈر بھی آئین میں شامل کر کے نافذ کر دیا گیا، ماسوا ایک انتہائی حساس شق کے، جو صوبوں اور مرکز میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق تھی۔
Lahore 34°C


