اسلام آباد: پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اعلان کردہ لانگ مارچ کے خلاف شہری کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل، چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔
درخواست شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے قیادت کی رہائی کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کی رہائی کے لیے احتجاج کا جواز نہیں بنتا کیونکہ متعلقہ مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ماضی کے احتجاج کے دوران جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ احتجاج کا مقصد عدالتوں پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ احتجاج کے دوران بھاری مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بعض سابقہ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا خیبر پختونخوا حکومت کی مشینری بھی اس احتجاج کا حصہ بنے گی؟
درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو خط کے ذریعے سرکاری وسائل کسی بھی احتجاج میں استعمال نہ کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔
وکیل کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو تاحال احتجاج کی اجازت کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر عمران خان کی رہائی سے متعلق بعض پیغامات عدلیہ کے حوالے سے مختلف ججز میں تفریق پیدا کرتے ہیں۔
سماعت کے دوران وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر 20 لاکھ افراد احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچ جائیں تو کیا عدالت عمران خان کی رہائی کا حکم دے سکتی ہے؟
وکیل نے مزید بتایا کہ سندھ میں حکام کی جانب سے مارچ کو سہولت فراہم کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔
Lahore 36°C
Karachi 31°C


