امریکی حملوں کے بعد ایرانی وزیرِ داخلہ کل اسلام آباد پہنچیں گے

اسلام آباد: ایران کے وزیرِ داخلہ کل (پیر) کو ایک اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور متعدد ممالک سفارتی سطح پر رابطوں کو تیز کر رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی تمام فریقوں پر زور دے چکا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے، جبکہ دونوں ممالک سرحدی انتظام، تجارت، توانائی اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی وزیرِ داخلہ کا یہ دورہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک خطے میں امن و استحکام، مشترکہ سرحد کے مؤثر انتظام اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔

دورے کے دوران کسی بڑے معاہدے کا باضابطہ اعلان متوقع نہیں، تاہم ملاقاتوں کو پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔