اسلام آباد : علامہ راجا ناصر عباس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں پر ظلم ہو رہا تھا، انہیں پہلے ہی خاموش کروا دیا گیا تھا، جبکہ ان کے لیے آواز اٹھانے والوں کو سزائیں سنا دی گئیں۔
علامہ راجا ناصر عباس نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ ایمان مزاری سمیت قوم کی دیگر بیٹیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، کیا ان کے گھر میں بیٹی نہیں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی بیٹیوں کو اٹھانے والوں کے اپنے گھروں میں بھی بیٹیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے احترام سے متعلق ثقافت، کلچر اور اسلامی روایات کو پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
پاکستان پر فاشسٹ نظام مسلط ہے، راجا ناصر عباس
علامہ راجا ناصر عباس نے ملک کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر ایک فاشسٹ نظام مسلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران ظالم ہیں، کولیپس کر چکے ہیں اور ملک پر قابض ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکمران حق حکمرانی کھو چکے ہیں اور اب زبردستی ملک پر قابض ہیں۔ ان کے بقول، نااہل اور زبردستی قابض ہونے کے باوجود صوبے بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
علامہ راجا ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ حکمرانوں کی حیثیت کیا ہے اور ان پر اعتبار کون کرے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو حکمرانوں پر اعتماد نہیں، اگر اعتماد ہوتا تو انہیں عوام پر گولیاں نہ چلانا پڑتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عوام حکمرانوں کے ساتھ ہوتے تو انہیں خوفزدہ ہو کر کنٹینرز لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
بوڑھی خواتین کو دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، راجا ناصر عباس
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ بوڑھی خواتین کو دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ جس عدلیہ نے عوام کو حقوق فراہم کرنے تھے، وہ خود فالج زدہ ہو چکی ہے اور کچھ کرنے کے قابل نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنے والی عدالتیں مفلوج ہو چکی ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق ریاست کے تینوں ستون گر چکے ہیں۔
معیشت، امن و امان اور گورننس ختم ہو چکی ہے، علامہ راجا ناصر عباس
ملک کی معاشی اور انتظامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ معیشت انتہائی اہم ہے اور حدیث کا مفہوم ہے کہ غربت انسان کو کفر کے قریب لے جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت معیشت، امن و امان اور گورننس تینوں ختم ہو چکے ہیں، جو کسی بھی ملک کے لیے انتہائی حساس صورتحال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غربت کے باعث لوگ کرپشن اور جرائم کی طرف جاتے ہیں، اخلاقی مسائل جنم لیتے ہیں اور معاشرہ مختلف برائیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کی عزتیں اور ناموس بھی بکنے لگتی ہیں۔
Lahore 34°C


