اسٹا کوڈ کے ضابطے اس مخصوص خود مختار علاقے کے اندر شہریوں کے دیوانی حقوق، انتظامی طریقہ کار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ کار کا تعین کرتے ہیں۔تاہم 

وفاقی انتظامیہ میں کوئی عارضی انتظام مستقل تقرری کا متبادل نہیں بن سکتا، نہ ہی محض ’’تا حکمِ ثانی‘‘ کی عبارت کسی انتظام کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کا قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔ وزارتِ مواصلات میں سیکریٹری کے عہدے سے متعلق نومبر 2023 میں سامنے آنے والا ’’لُک آفٹر چارج‘‘ (Look-after Charge) کا معاملہ اب ایک بنیادی آئینی و انتظامی سوال بن چکا ہے: تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود اس انتظام کا موجودہ قانونی جواز کیا ہے، اور اس کی جواب دہی کس پر عائد ہوتی ہے؟

روزنامہ دی نیوز نے 3 نومبر 2023 کو رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے گریڈ 22 کے افسر علی شیر محسود کو فوری طور پر، تا حکمِ ثانی، وزارتِ مواصلات کا چارج دیکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اب اکتوبر 2026 میں وفاقی حکومت، بالخصوص اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات، کو واضح کرنا ہوگا کہ آیا اس عارضی انتظام کی جگہ کوئی باقاعدہ تقرری یا قواعد کے مطابق مؤثر حکم جاری کیا گیا تھا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو اتنے اہم وفاقی عہدے کے معاملے کو مسلسل غیر واضح رکھنے کی وجوہات کیا ہیں؟

یہ معاملہ کسی افسر کی ذات یا انفرادی کارکردگی پر بحث کا نہیں، بلکہ قانونی اختیار، مقررہ طریقۂ تقرری، انتظامی شفافیت اور وفاقی اداروں کی جواب دہی کا ہے۔ ریاستی عہدے ذاتی صوابدید یا غیر معینہ عارضی انتظامات کے تحت نہیں، بلکہ نافذالعمل قوانین اور قواعد کے مطابق چلائے جانے چاہییں۔

ایسٹا کوڈ واضح ہے: عارضی انتظام، مستقل تقرری کا متبادل نہیں

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے شائع کردہ ایسٹا کوڈ (ESTA Code) میں اضافی چارج، موجودہ چارج اور دیگر عارضی انتظامات سے متعلق ضوابط موجود ہیں۔ دوسری جانب، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی اپریل 2021 میں جاری کردہ وضاحت کے مطابق، ’’لُک آفٹر چارج‘‘ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد میں تقرری کا باقاعدہ تسلیم شدہ طریقۂ کار نہیں ہے۔

اس وضاحت کے مطابق، ایسا انتظام ہنگامی حالات میں روزمرہ کے معمول کے سرکاری امور چلانے کے لیے ایک عارضی داخلی تدبیر ہوسکتا ہے؛ تاہم اسے کسی اعلیٰ عہدے کے مکمل اختیارات استعمال کرنے کے لیے باقاعدہ قانونی تقرری کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

یہاں بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ قواعد کے تحت مجاز اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا قانونی اضافی چارج یا موجودہ چارج اور غیر رسمی لُک آفٹر انتظام دو الگ معاملات ہیں۔ کسی افسر کو ذمہ داری سونپنے کا انتظامی حکم بذاتِ خود اس امر کا ثبوت نہیں کہ اسے عہدے کے تمام اختیارات استعمال کرنے کا قانونی اختیار بھی حاصل تھا۔

چنانچہ حکومت کو محض یہ بتانا کافی نہیں ہوگا کہ سرکاری امور کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔ اسے متعلقہ قواعد، مجاز اتھارٹی کے حکم اور اختیارات کی تفویض کی بنیاد بھی واضح کرنا ہوگی۔

اگر قانونی حکم موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے؛ اگر نہیں، تو اس انتظام کے تسلسل کی قانونی بنیاد اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔

تین سالہ انتظام: تقرری کا باقاعدہ طریقۂ کار کیوں واضح نہیں؟

اگرچہ نومبر 2023 کا ابتدائی انتظام ’’تا حکمِ ثانی‘‘ جاری کیا گیا تھا، لیکن اس عبارت کو لامحدود مدت کے لیے قانونی جواز تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عارضی انتظام کی مدت، اس کی حدود اور اس کے تسلسل کی قانونی بنیاد متعلقہ قواعد اور بعد میں جاری ہونے والے احکامات سے ثابت ہونی چاہیے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات کو درج ذیل سوالات کے مستند دستاویزی جوابات دینے چاہییں:

- کیا سیکریٹری مواصلات کے عہدے پر باقاعدہ تقرری کی گئی؟

- اگر تقرری نہیں ہوئی تو اس عہدے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے کون سا حکم اس وقت نافذ ہے؟

- کیا اصل انتظام میں توسیع کی گئی یا اسے کسی قانونی اضافی چارج یا موجودہ چارج کے حکم سے تبدیل کیا گیا؟

- کیا متعلقہ افسر کو انتظامی، مالی اور پالیسی اختیارات باقاعدہ طور پر تفویض کیے گئے؟

- باقاعدہ تقرری کے لیے مجاز اتھارٹی نے کیا اقدامات کیے، اور اگر معاملہ اب تک زیرِ التوا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟

یہ محض رسمی سوالات نہیں۔ وفاقی انتظامیہ میں عہدے کی قانونی حیثیت اور اس سے وابستہ اختیارات کا واضح ہونا بنیادی تقاضا ہے۔ کسی عارضی انتظام کو مسلسل برقرار رکھنے کی صورت میں متعلقہ حکام پر لازم ہے کہ وہ اس کے قانونی جواز اور مقررہ طریقۂ کار کی پابندی کی وضاحت کریں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات کی ادارہ جاتی ذمہ داری

معاصر اخباری رپورٹ کے مطابق، ابتدائی نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کیا تھا۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، وزارتِ مواصلات اور مجاز تقرر کنندہ اتھارٹی کو اس انتظام کی مکمل انتظامی تاریخ ریکارڈ پر لانی چاہیے۔

یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ آیا متعلقہ حکام نے مقررہ قواعد کے مطابق عہدے کو پُر کرنے، عارضی انتظام کا جائزہ لینے اور قانونی اختیارات کی واضح تفویض کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات کیے یا نہیں۔

ادارہ جاتی جواب دہی کا تقاضا ہے کہ متعلقہ فائل، نوٹیفکیشنز، منظوریوں اور سروس ریکارڈ کی بنیاد پر حقائق سامنے لائے جائیں۔ کسی فرد کے ارادوں یا ذاتی طرزِ عمل کے بارے میں قیاس آرائی نہ اس مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی دستاویزی وضاحت کا متبادل۔

اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کیا مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا گیا، کس اتھارٹی نے اختیارات تفویض کیے اور موجودہ انتظام کو قانونی حیثیت دینے والا نافذالعمل حکم کون سا ہے؟

چیف ایگزیکٹو این ایچ اے کا اضافی چارج: قانونی وضاحت کی اہمیت مزید بڑھ گئی

ستمبر 2026 میں چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (CEO NHA)، کا اضافی چارج دیے جانے کی رپورٹ نے معاملے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ اب حکومت کو سیکریٹری مواصلات کے انتظام اور چیف ایگزیکٹو این ایچ اے کی اضافی ذمہ داری کے درمیان انتظامی و قانونی تعلق بھی واضح کرنا چاہیے۔

متعلقہ حکام کو یہ بتانا ہوگا کہ ان ذمہ داریوں کے لیے کون سے احکامات نافذ تھے، کس مجاز اتھارٹی نے انہیں منظور کیا اور متعلقہ تاریخوں میں انتظامی و مالی اختیارات کس قانونی بنیاد پر استعمال کیے گئے۔

این ایچ اے قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے، خریداری، ٹول آمدن، ترقیاتی منصوبوں اور بھاری سرکاری اخراجات سے متعلق ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ایسے ادارے کے سربراہ کے اختیارات میں قانونی ابہام انتظامی شفافیت اور جواب دہی کے بنیادی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سرکاری امور کا تسلسل یقینی بنانا بلاشبہ ضروری ہے، لیکن اس مقصد کو قانونی تقرری، مجاز منظوری اور قواعد کی پابندی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامی سہولت کسی ایسے انتظام کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا خودکار جواز نہیں بن سکتی جس کی قانونی بنیاد واضح نہ ہو۔

دستاویزی ریکارڈ منظرِ عام پر لایا جائے

عوامی مفاد، انتظامی شفافیت اور قانونی جواب دہی کے تقاضوں کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات کو درج ذیل ریکارڈ پیش کرنا چاہیے:

1۔ اصل نوٹیفکیشن: نومبر 2023 میں جاری ہونے والا لُک آفٹر چارج کا حکم اور اس کے بعد سیکریٹری مواصلات کے عہدے سے متعلق تمام نوٹیفکیشنز، توسیعی احکامات یا متبادل تقرریوں کی نقول۔

2۔ قانونی اختیار کی بنیاد: وہ متعلقہ قانونی دفعات، قواعد اور مجاز اتھارٹی کے احکامات جن کے تحت سیکریٹری مواصلات کے فرائض اور اختیارات استعمال کیے جاتے رہے۔

3۔ باقاعدہ تقرری کی پیش رفت: عہدے پر باقاعدہ تقرری کے لیے کارروائی شروع کرنے کی تاریخ، اب تک کی پیش رفت اور کسی تاخیر یا مسلسل خالی آسامی کی وجوہات۔

4۔ چیف ایگزیکٹو این ایچ اے کا اضافی چارج: ستمبر 2026 سے متعلقہ نوٹیفکیشن، منظوری اور انتظامی و مالی اختیارات کی تفویض کے احکامات۔

5۔ فیصلوں کی قانونی حیثیت: اس امر کی تصدیق کہ اہم انتظامی، مالی اور پالیسی فیصلے متعلقہ تاریخوں میں صرف انہی مجاز افسران نے کیے جنہیں قابلِ اطلاق قواعد کے تحت ایسے اختیارات حاصل تھے۔

یہ معلومات محض دفتری ریکارڈ کا معاملہ نہیں؛ ان کا تعلق وفاقی انتظامیہ کے قانونی نظم و ضبط اور عوامی اختیارات کے شفاف استعمال سے ہے۔

قانونی تقاضوں سے انحراف کی گنجائش نہیں

ایسٹا کوڈ اور متعلقہ سروس قواعد وفاقی انتظامیہ کے طریقۂ کار کو منظم کرنے کے لیے ہیں، نہ کہ محض حوالہ جاتی دستاویزات کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے۔ ان کی پابندی انتظامی صوابدید سے بالاتر ایک بنیادی تقاضا ہے، جس کی عملی صورت متعلقہ قانون اور قواعد طے کرتے ہیں۔

اگر موجودہ انتظام قانونی احکامات کے مطابق ہے تو حکومت کو اس کی دستاویزی بنیاد سامنے لانے میں تامل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مقررہ طریقۂ کار پر عمل نہیں ہوا تو متعلقہ حکام کو اس کی وجوہات، ذمہ داری اور اصلاحی اقدامات واضح کرنے چاہییں۔

عارضی انتظام کو نام کے اعتبار سے ہی نہیں، قانونی حیثیت اور مدت کے اعتبار سے بھی عارضی رہنا چاہیے۔

وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارتِ مواصلات کے سامنے اب بنیادی سوالات واضح ہیں: سیکریٹری مواصلات کے عہدے سے متعلق موجودہ قانونی اختیار کیا ہے؟ چیف ایگزیکٹو این ایچ اے کے اضافی چارج کی بنیاد کون سا حکم ہے؟ اور مقررہ طریقۂ تقرری کی پابندی یقینی بنانے کے لیے کون سا ادارہ جواب دہ ہے؟

ان سوالات کا جواب قیاس آرائیوں، عمومی وضاحتوں یا محض انتظامی تسلسل کے دعوے سے نہیں، بلکہ متعلقہ قوانین، قواعد اور مستند سرکاری ریکارڈ سے دیا جانا چاہیے۔ وفاقی انتظامیہ میں قانونی اختیار کی وضاحت کوئی اختیاری رعایت نہیں، بلکہ شفاف حکمرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی کا لازمی تقاضا ہے۔