میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کو کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن موصول ہوگیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کمیشن کے دائرۂ کار اور تحقیقات کے لیے ٹی او آرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جوڈیشل کمیشن میر رضا علی کی موت کے اصل حقائق اور واقعے سے جڑے تمام حالات کا جائزہ لے گا۔ کمیشن اس امر کی بھی تحقیقات کرے گا کہ کیس کی تفتیش غیر جانب دارانہ اور قانون کے مطابق کی گئی یا نہیں۔

کمیشن مزید تحقیقات یا اضافی شواہد کی ضرورت کا تعین کرنے کے ساتھ پولیس، میڈیکو لیگل افسر (ایم ایل او) یا کسی دوسرے سرکاری اہلکار کی جانب سے غفلت اور فرائض میں کوتاہی کے الزامات کا بھی جائزہ لے گا۔

اس کے علاوہ شواہد چھپانے یا ان میں ردوبدل کیے جانے کی صورت میں ذمہ دار افراد کا تعین بھی کمیشن کے دائرۂ اختیار میں شامل ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن ضرورت پڑنے پر مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے اور قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارشات بھی پیش کرسکے گا۔ کمیشن کو گواہوں کو طلب کرنے اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کا حکم دینے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

تمام متعلقہ ادارے اور افسران کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کے پابند ہوں گے۔

جوڈیشل کمیشن اپنی تشکیل کی تاریخ سے 30 روز کے اندراپنی رپورٹ حکومت سندھ کو پیش کرے گا، تاہم حکومت ضرورت کے مطابق رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع کرسکے گی۔