پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی سابق اہلیہ اور سابق بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر بھارت میں بننے والی فلم ’سندور‘ میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی۔

مبینہ طور پر یہ فلم ’آپریشن سندور‘ کے پس منظر میں بنائی جا رہی ہے اور ثانیہ مرزا کو اس میں کردار ادا کرنے کے عوض بھاری معاوضے کی پیشکش کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

تاہم دستیاب معتبر ذرائع میں فی الحال اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ثانیہ مرزا کو واقعی فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی، انہوں نے اسے مسترد کیا یا اس پیشکش کے عوض کسی مخصوص رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔

اسی طرح یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ثانیہ مرزا کی ملکیتی مارکیٹ کو مبینہ طور پر ٹیکس واجبات کی وجہ سے بند کیا گیا، جبکہ ناقدین اسے مبینہ انتقامی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی قابلِ اعتماد اور آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق ثانیہ مرزا نے مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ردعمل دیا تھا۔ انہوں نے آپریشن کے بارے میں بریفنگ دینے والی بھارتی فوج کی خواتین افسران کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر وومیکا سنگھ کی تصویر بھی شیئر کی تھی۔

لہٰذا ثانیہ مرزا کی جانب سے فلم ’سندور‘ میں کام سے انکار، مارکیٹ بند کیے جانے یا اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے سے متعلق دعووں کو فی الحال حتمی خبر کے بجائے غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے مداحوں میں اس مبینہ معاملے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا شعیب ملک نے اپنی سابق اہلیہ کی صورت میں ایک بڑا ستارہ ’گنوا دیا‘ ہے۔