حوثیوں کی خطے میں پیش قدمی سعودی عرب کا بڑا اقدام کا بڑا رد عمل کے طور پر تیل کی اہم ترین پائپ لائن بند کر دی حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے اہم جزیرے پر قبضہ کرُلیا گیا ہے اور سودی عرب پر پروجیکٹائل حملے کرنے کے علاوہ باب المندب کے ایک اپمُجزیرے پریم پر حوثیوں نے قبضہ بھی کر لیا ہے سعودی عرب کی جانب سے مشرق سے مغرب کی جانب تیل سپلائی کرنے والی ایک اہم ترین پائپ لائن بھی بند کر دی گئی ہے یہ اقدام پائپ لائن پر ڈرون حملے ہونے کے بعد حفظ ما تقدم کے طور پر کیا گیا ہے جس سے دنیا میں تیل کی برآمد کے سب سے بڑے مرکز سعودی عرب سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی شدید طور پر متاثر ہوئی اس صورت حال کے باعث تیل درآمد کرنے والے مملاک میں نہ صرف بے چینی پیدا ہوئی ہے بلکہ تیل کی قیمیت مین بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے خطے میں ان جنگی حالات سے معاشی طور پر۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے جہاں پیٹرول کی قیمت عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو گئی ہے دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف امریکہ سے مدد کی درخواست کی تو حوثیوں نے بھی امریکہ سے مداخلت نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاُہے کہ وہ امریکہ سے جنگ نہیں چاہتے امریکہ نے بھی کوئی نیا محاذ کھولنے سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کو صرف انٹیلی جینسُ شئیرنگ کی یقین دہانی کروائی ہے ایک اطلاع کے مطابق عراق نے اپنا ایک فوجی کمانڈر بھی برطرف کر دیا ہے سعودی عرب اور عراق دونوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حملے عراق سے ہوئے اور ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے جنگ نہیں چاہتا 

واضح رہے کہ سعودی عرب کی بند کی گئی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن جو 1200 کلو میٹر طویل ہے ابانائے ہرمز کی بندش کے سبب خلیجی تیل کی عالمی سطح پر ترسیل کا اہم ذریعہ۔ بن گئی تھی اور روزانہ چالیس سے پچاس لاکھ بیرل تیل روزآنہ سپلائی کرتی تھی پائپ لائن پرُحملے کے نتیجے میں مدینہ کے قریب سیاہ دھوئیں کا بادل بھی دکھائی دے رہا ہے 

یمن میں سعودی حمایت یافتہ فوجیوں نے اعلان کیا ہے کہ حوثیوں سے سعودیہ کا مقبوضہ علاقہ بازیاب کروائیں گے