اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت ، سیاسی رہنما یا صوبائی حکومت کو اسلام آباد کی سڑکیں ، شاہراہیں یا داخلی و خارجی راستے بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص بھی اسلام آباد کی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز یا ٹول پلازوں پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ عدالت کے مطابق سیاسی مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اسلام آباد آنے والے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالنے یا شہریوں کی تعلیمی اداروں اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ سرکاری وسائل کو اسلام آباد کی جانب کسی سیاسی مارچ یا ریلی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ سرکاری گاڑیوں، مشینری، فنڈز اور دیگر سرکاری وسائل کو مظاہرین کی معاونت کے لیے استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ کوئی سرکاری افسر اسلام آباد آنے والے مارچ، جلوس یا ریلی میں مدد یا سہولت فراہم نہیں کرے گا، جبکہ سرکاری ملازمین کو کسی سیاسی مارچ میں شرکت پر مجبور، آمادہ یا پابند بھی نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں چیف سیکریٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری افسران کی شکایات کے لیے مؤثر رابطہ کار نظام بنایا جائے۔ اگر کسی افسر کو سیاسی رہنما یا عوامی عہدیدار کی جانب سے مارچ میں معاونت کے لیے دباؤ یا ترغیب دی جائے تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کرسکے گا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی کی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے والی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی اور اس میں ملوث افراد آئین و قانون کے تحت نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کی جانب سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنا اس کے آئینی حلف کی خلاف ورزی بھی تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور عدالتی احکامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کے نام پر شہریوں کی نقل و حرکت، کاروبار، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
Lahore 31°C
Karachi 30°C
Islamabad 28°C


