پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے، پھر بھی موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بھاری قیمت چکا رہا ہے

2022 میں پاکستان کا تقریباً ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا۔ چند ہی ہفتوں میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد اپنے گھروں، زمینوں یا روزگار سے محروم ہو گئے، جبکہ مجموعی نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس ملک نے اس تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا، وہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

یہی تضاد اس پوری کہانی کا اصل نکتہ ہے۔ پاکستان دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک میں شامل نہیں، پھر بھی موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات اسی پر کیوں مرتب ہو رہے ہیں؟ اس کا جواب صرف کاربن کے اخراج میں نہیں، بلکہ جغرافیے، معیشت اور ایک ایسی تلخ حقیقت میں پوشیدہ ہے جسے دنیا اب تک پوری طرح تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔


ایک نہایت معمولی حصہ، مگر ایک بہت بڑے عالمی مسئلے کا شکار

سب سے پہلے حقائق کو دیکھتے ہیں۔

دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے سب سے زیادہ اخراج کے ذمہ دار چین، امریکہ، یورپی یونین اور بھارت جیسے بڑے ممالک ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

فی کس اخراج کے لحاظ سے بھی ایک اوسط پاکستانی، شمالی امریکہ یا یورپ کے بیشتر ممالک میں رہنے والے افراد کے مقابلے میں کہیں کم کاربن خارج کرتا ہے۔

یقیناً پاکستان بھی کچھ نہ کچھ اخراج کرتا ہے، مگر جب اسے ان ممالک کے مقابلے میں رکھا جائے جو عالمی حدت میں سب سے زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں، تو اس کا حصہ نہایت معمولی دکھائی دیتا ہے۔

اور یہی حقیقت آگے آنے والے سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔


پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے؟

اگر سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والے ممالک ہی سب سے زیادہ متاثر بھی ہوتے، تو شاید پاکستان اس بحث کا حصہ ہی نہ بنتا۔

لیکن پاکستان کا جغرافیہ اسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک ترین اثرات کی براہِ راست زد میں لے آیا ہے۔

ملک کے شمالی علاقوں میں قطبین سے باہر دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ پاکستان میں دنیا کے تیسرے اور پانچویں بڑے غیر قطبی گلیشیئرز، بیافو اور بلتورو واقع ہیں۔

یہ گلیشیئر صرف قدرتی حسن کا مظہر نہیں، بلکہ دریائے سندھ کو پانی فراہم کرتے ہیں، جو کروڑوں پاکستانیوں کے لیے پینے کے پانی، زراعت اور بجلی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، یہ گلیشیئر معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ قلیل مدت میں اس سے سیلابوں کا خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ طویل مدت میں وہ پانی کم ہوتا جائے گا جس پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کا انحصار ہے۔

دوسری طرف مون سون کا نظام، جو صدیوں سے پاکستانی زراعت کی بنیاد رہا ہے، اب شدید بے ترتیبی کا شکار ہے۔ کہیں طویل خشک سالی ہے، تو کہیں چند ہی دنوں میں اتنی بارش ہو جاتی ہے جتنی پہلے کئی ہفتوں میں ہوا کرتی تھی۔

ایک ایسا قدرتی نظام جو توازن پر قائم تھا، اب آہستہ آہستہ اپنا توازن کھو رہا ہے۔


وہ سال جب پاکستان کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا

اگر کوئی ایک واقعہ پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کو پوری دنیا کے سامنے لے آیا، تو وہ 2022 کا سیلاب تھا۔

غیر معمولی مون سون بارشیں اور تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز ایک ساتھ ملے، جس کے نتیجے میں ایسا سیلاب آیا جس نے تقریباً پورے ملک کے ایک تہائی حصے کو زیرِ آب کر دیا۔

اس تباہی سے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، جبکہ عالمی بینک کے مطابق مجموعی معاشی نقصان 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

پورے کے پورے دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ سڑکیں، ہسپتال، اسکول اور زرعی زمینیں چند ہی دنوں میں پانی کی نذر ہو گئیں۔

لاکھوں پاکستانیوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف خبروں یا بین الاقوامی کانفرنسوں کا موضوع نہیں رہی، بلکہ ان کے اپنے گھروں میں برپا ہونے والا انسانی المیہ بن چکی ہے۔


سیلاب ہی واحد مسئلہ نہیں

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی بات آئے تو اکثر ذہن میں صرف سیلاب آتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ملک طویل اور شدید گرمی کی لہروں، پانی کی قلت، مختلف علاقوں میں خشک سالی، اور زرعی پیداوار میں مسلسل کمی جیسے مسائل کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

یہ آخری مسئلہ خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ جب فصلیں متاثر ہوتی ہیں تو نقصان صرف کسانوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ خوراک کی قیمتوں، روزگار، برآمدات اور لاکھوں خاندانوں کی آمدنی تک پھیل جاتا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 18 سے 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔


جب مسئلہ معلوم ہے تو پاکستان خود کو کیوں نہیں بچا لیتا؟

یہ ایک جائز سوال ہے، اور اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ مسئلہ معلومات کا نہیں بلکہ وسائل کا ہے۔

سیلاب سے بچاؤ کے بند، جدید نکاسی آب کا نظام، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ سڑکیں، مؤثر آبپاشی اور بروقت انتباہی نظام—یہ سب منصوبے کاغذ پر آسان دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ قدرتی آفات کے بعد دوبارہ تعمیر کر سکیں، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط انفراسٹرکچر بنا سکیں۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو انہی خطرات کا سامنا بہت محدود وسائل کے ساتھ کرنا پڑتا ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے آنے والے برسوں میں موسمیاتی موافقت (Climate Adaptation) پر مسلسل اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہوگی۔


وہ مشکل سوال جس کا دنیا کے پاس ابھی تک جواب نہیں

پاکستان کی صورتحال موسمیاتی بحران کی ایک گہری ناانصافی کو بے نقاب کرتی ہے۔

جو ممالک عالمی حدت میں سب سے کم حصہ ڈالتے ہیں، اکثر وہی اس کے سب سے زیادہ تباہ کن نتائج بھگتتے ہیں۔

اسی عدم مساوات نے دنیا بھر میں موسمیاتی انصاف (Climate Justice) کی بحث کو جنم دیا ہے۔ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کا مؤقف ہے کہ جن ریاستوں نے تاریخی طور پر سب سے زیادہ کاربن خارج کیا، انہیں ان ممالک کی بحالی اور موسمیاتی موافقت کے لیے کہیں زیادہ مالی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔

امکان ہے کہ آنے والے کئی عشروں تک یہی بحث عالمی موسمیاتی پالیسی کا اہم حصہ بنی رہے گی۔


خلاصہ

موسمیاتی تبدیلی صرف اس بات کا نام نہیں کہ سب سے زیادہ کاربن کون خارج کرتا ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کون اس کے اثرات کے سامنے سب سے زیادہ بے بس ہے، اور آفت آنے کے بعد دوبارہ سنبھلنے کی سب سے کم صلاحیت کس کے پاس ہے۔

پاکستان کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

گرمیاں پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہیں۔

سیلاب زیادہ تباہ کن بنتے جا رہے ہیں۔

کسان ایک ایسے مستقبل کا سامنا کر رہے ہیں جس کی پیش گوئی کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

اور ان سب کے باوجود پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے تلخ سبق ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ہمیشہ ان لوگوں کو سزا نہیں دیتی جنہوں نے اسے جنم دیا۔ اکثر اس کا سب سے بھاری بوجھ انہی قوموں پر پڑتا ہے جو نہ صرف اس کی کم سے کم ذمہ دار ہوتی ہیں بلکہ اس کے نتائج برداشت کرنے کی بھی سب سے کم صلاحیت رکھتی ہیں۔