پاکستان نے اقوام متحدہ میں ٹوکنائزیشن پر پہلے پالیسی ڈائیلاگ کی مشترکہ میزبانی کرکے اہم پیش رفت کی ہے۔
پہلی مرتبہ گلوبل ساؤتھ سے کسی ابھرتی ہوئی معیشت نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایمرجنگ ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی فنانس کے موضوع پر گفتگو کی ۔
اس موقع پر کہا گیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے مستقبل کی تشکیل میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں بلال بن ثاقب کی قیادت کو بھی پاکستان کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام نئے سرے سے تشکیل پا رہا ہے اور گلوبل ساؤتھ کو اس کے قواعد بنانے کے عمل میں شریک ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کرنے سے ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں رکتا بلکہ ریاست میدان سے باہر ہو جاتی ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان نے آٹھ سالہ بینکنگ پابندی سے ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری نظام تک کا سفر صرف چھ ماہ میں طے کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو کمیٹیوں کی رفتار سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی رفتار کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا۔
چیئرمین پی وارا کے مطابق ٹوکنائزیشن کے ذریعے ترسیلاتِ زر کو تیز اور سستا بنایا جا سکتا ہے۔
بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان میں قرضوں اور سکوک کی ٹوکنائزیشن پر غور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو بڑے مسائل کا سامنا ہے، تاہم بڑی آبادی ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
Lahore 28°C


