نادرا نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے، جسے ملک میں ڈیجیٹل شناخت کے نظام میں اہم پیش رفت اور خود انحصاری کی جانب قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں قومی شناختی کارڈ کے اجرا کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں شروع ہوا، جب شہریوں کا ڈیٹا مرتب کرنے اور شناخت کے لیے سرکاری کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی نظام نے بعد میں ترقی کرتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی شکل اختیار کی۔

ابتدائی دور میں شناختی کارڈ ٹائپ رائٹر کے ذریعے تیار کیے جاتے تھے اور بعض صورتوں میں ہاتھ سے بھی تحریر کیے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ شناختی کارڈ کے نظام میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں، جن میں خواتین کی تصاویر کو لازمی قرار دینا، ڈیٹا بیس کو جدید بنانا اور چِپ والے اسمارٹ شناختی کارڈ جاری کرنا شامل تھا۔

نادرا نے بعد ازاں چِپ والے شناختی کارڈز کے ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوہری شہریت رکھنے والے افراد کے لیے نائیکوپ سمیت مختلف شناختی دستاویزات متعارف کرائیں۔ تاہم ان کارڈز میں استعمال ہونے والی مائیکرو چِپ درآمد کرنا پڑتی تھی، جس پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ ہوتا تھا۔

اب نادرا نے درآمدی مائیکرو چِپ کی جگہ محفوظ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ تیار کیا ہے۔ یہ کارڈ پولی کاربونیٹ میٹریئل سے پاکستان میں تیار کیا گیا ہے، جبکہ اس کی تصدیق عام اسمارٹ فون کے ذریعے بھی ممکن ہوگی۔

نئے شناختی کارڈ کے کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر سے متعلق ضروری شناختی معلومات اور تصویر محفوظ ہوگی۔ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے کیو آر کوڈ اسکین کرکے شناختی کارڈ کی تصدیق کی جا سکے گی۔

نادرا کے مطابق کیو آر کوڈ کے ذریعے نام، پتہ اور دیگر شناختی معلومات کے ڈیٹا اندراج میں غلطیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ ٹیلی کام کمپنیوں، بینکوں، ہسپتالوں، پاکستان ریلوے، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کو کیو آر کوڈ کی تصدیق کے لیے متعلقہ سافٹ ویئر فراہم کیا جائے گا۔

نئے شناختی کارڈ پر خاندان نمبر کے علاوہ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والوں اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے مخصوص نشانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ کارڈ پر شہری کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔

کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ 14 اگست سے موجودہ چِپ کے بغیر ٹیسلن شناختی کارڈ کی جگہ مرحلہ وار جاری کیا جا رہا ہے۔ جنوری 2027 سے کیو آر کوڈ پر مبنی کارڈ نائیکوپ اور جووینائل کارڈ سمیت قومی شناختی کارڈز کی تمام اقسام کے لیے جاری کیا جائے گا۔

آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ کو بھی چِپ کے بغیر کیو آر کوڈ پر مبنی نئے کارڈ میں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم پہلے سے جاری کیے گئے تمام شناختی کارڈ اپنی مقررہ تاریخِ میعاد تک بدستور قابلِ استعمال رہیں گے۔

نادرا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ نئے کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ سے نہ صرف شناخت کی تصدیق کا عمل مزید آسان اور مؤثر ہوگا بلکہ درآمدی مائیکرو چِپ پر انحصار بھی کم ہوگا، جو ملک کے ڈیجیٹل شناختی نظام میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔