آئیے جانتے ہیں آئینِ پاکستان کے یہ دو آرٹیکلز کیا ہیں، ان پر عمل درآمد کن صورتوں میں ہو سکتا ہے اور ان کے اثرات کیا ہیں۔


آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 ملک یا اس کے کسی حصے میں ایمرجنسی (ہنگامی حالت) کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اگر صدرِ پاکستان کو یقین ہو کہ جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی بدامنی کی وجہ سے پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو شدید خطرہ ہے، تو وہ ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔


وزیرِ اعظم کا مشورہ: صدرِ پاکستان یہ اعلان وزیرِ اعظم کے مشورے پر کریں گے۔


صوبائی اسمبلی کی قرارداد: اگر اندرونی بدامنی کی بنیاد پر کسی صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنی ہو، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد (Resolution) منظور کرنا ضروری ہوتی ہے۔


پارلیمنٹ کی منظوری: صدر کے اعلان کے بعد، یہ ایمرجنسی 10 دن کے اندر پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس) کے سامنے منظوری کے لیے رکھی جاتی ہے اور اسے 30 دن کے اندر مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا لازمی ہوتا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران، وفاقی پارلیمنٹ کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی صوبے کے معاملات یا ایسے مضامین پر قانون سازی کر سکے جو عام حالات میں صرف صوبائی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔


ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران پارلیمنٹ قانون کے ذریعے قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک کا اضافہ کر سکتی ہے، لیکن یہ مدت ایمرجنسی ختم ہونے کے چھ ماہ کے بعد تک نہیں بڑھ سکتی۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے حکومت اور اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوتیں، البتہ معطل ہو جاتی ہیں اور وزیرِ اعلیٰ اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔ صوبے کا انتظام اور کنٹرول وفاق کو منتقل ہو جاتا ہے اور وفاق صوبے میں موجود اپنے نمائندے، یعنی گورنر، کے ذریعے صوبے کا نظام چلاتا ہے۔ اس دوران صوبے کے عوام کے تمام آئینی اور بنیادی حقوق بھی معطل رہتے ہیں۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لینا لازمی ہوتی ہے، جو ایک قرارداد کے ذریعے لی جاتی ہے۔ حالات معمول پر آنے پر آرٹیکل 232 کا نفاذ کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔


آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی (جسے عام طور پر گورنر راج کہا جاتا ہے) سے متعلق ہے۔ اگر صدرِ پاکستان کو صوبے کے گورنر کی رپورٹ یا کسی اور ذریعے سے یہ اطمینان ہو جائے کہ صوبے کا انتظام آئین کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا، تو صدر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدارتی فرمان (Proclamation) جاری کر سکتے ہیں۔ صدر صوبائی حکومت کے تمام یا کچھ اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو تفویض کر سکتے ہیں، تاہم صوبائی اسمبلی کے اختیارات کسی کو تفویض نہیں کیے جا سکتے، البتہ صوبائی اسمبلی کے اختیارات مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) یا اس کی اجازت سے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ گورنر راج کا نفاذ ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے ہوتا ہے۔ اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانا ہوتا ہے، اور اسے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔


آئین کے یہ آرٹیکلز سیفٹی والوز کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب کسی صوبے کے حالات آئین کے مطابق نہ چلائے جا رہے ہوں، روزمرہ کے معمولاتِ زندگی معطل ہو گئے ہوں اور صوبے میں بدامنی اور لاقانونیت عروج پر ہوں، امن و امان کی صورتِ حال صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہ رہے اور صوبہ وفاق سے تعاون نہ کر رہا ہو، بیرونی خطرات سر پر منڈلا رہے ہوں یا ملک حالتِ جنگ میں ہو، تو ایسی صورت میں ملک بھر میں، کسی ایک صوبے میں یا ملک کے کچھ حصے میں صدرِ مملکت آئین کے آرٹیکل 232 کے ذریعے ہنگامی حالت، یعنی ایمرجنسی، کا نفاذ کر سکتے ہیں۔ صدارتی فرمان جاری ہوتے ہی اس کی منظوری پارلیمنٹ سے لینی ہوتی ہے۔ اس شق کا اطلاق صوبے میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے نتیجے میں بھی ہو سکتا ہے اور اگر صوبائی اسمبلی ایسی قرارداد منظور نہ کرے تو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدارتی فرمان کی منظوری لی جا سکتی ہے۔


حالیہ مثال خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے بیک وقت نفاذ کی ہے۔ اس کے لیے دستیاب حالات کچھ یوں تھے: صوبے کا وزیرِ اعلیٰ اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعلیٰ کا کام تحریک چلانا نہیں بلکہ صوبے کا نظام چلانا ہوتا ہے۔ لیڈر کی رہائی کے لیے تحریک چلانا اس کی پارٹی کا بنیادی حق ہوتا ہے، لیکن یہ تحریک پارٹی کو چلانی چاہیے، حکومت کو نہیں۔ حکومت زیادہ سے زیادہ پارٹی موومنٹ کو سہولت، وہ بھی آف دی ریکارڈ، فراہم کر سکتی تھی، جبکہ حکومت کا بنیادی اور آئینی فریضہ نظامِ حکومت چلانا تھا۔ حکومت کا فرض دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی اداروں سے تعاون کرنا، صوبے میں امن و امان بحال کرنا، صوبے میں ترقیاتی کام اور عوام کو روزگار کی فراہمی پر توجہ دینا تھا۔


اس کے برعکس صوبائی حکومت ایک وفاقی رپورٹ کے مطابق سیاسی تحریک چلانے میں مصروف رہی اور جلوس کی شکل میں صوبے کے مختلف اضلاع میں دھرنے دے کر بیٹھی رہی، جس کی وجہ سے نہ صرف کاروبارِ زندگی معطل ہو کر رہ گیا بلکہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا اور سینکڑوں بے گناہ شہری لقمۂ اجل بنے، لیکن صوبائی حکومت نے وفاق کی بار بار کی وارننگ پر کوئی توجہ نہ دی، جس کے نتیجے میں صدرِ مملکت نے وزیرِ اعظم کے مشورے پر صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کا اطلاق کرتے ہوئے صوبے میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کر دیا، جس کی منظوری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے حاصل کر لی گئی۔