اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بلیو پاسپورٹس کی سب سے زیادہ تعداد بیوروکریٹس کے پاس ہے، جبکہ حکومت نے ایسے پاسپورٹس کی تعداد میں 30 ہزار کی کمی کی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بلیو پاسپورٹس اور ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ کے پاسپورٹس سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے شکایت کی کہ ان کے اہل خانہ کے پاسپورٹس بنوانے کے لیے ان سے این او سی طلب کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود پاسپورٹ آفس گئے، جہاں عملے نے انہیں این او سی لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے اس کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس محمد علی رندھاوا نے کمیٹی کو بتایا کہ ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ سے متعلق ڈیٹا وزارت داخلہ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان جب مختلف ممالک کے ساتھ ویزا فری سہولت کے حوالے سے بات کرتا ہے تو متعلقہ حکام ملک میں جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس کی تعداد سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے تقریباً 75 ہزار بلیو پاسپورٹس کی تعداد بتائی جاتی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے بلیو پاسپورٹس کی مجموعی تعداد میں 30 ہزار کی کمی کی ہے، تاہم ان پاسپورٹس کا سب سے بڑا حصہ بیوروکریٹس کے پاس ہے