ایبڈو الیکٹیو باڈی ڈس کوالیفیشن آرڈننس 1959 کا مقصد ملک میں کرپشن کا خاتمہ کرنا اور سیاسی اصلاحات نافظ کرنا تھا جس کے تحت سیاست دانوں کو تحقیقات کی چکی میں پیسا گیا کچھ سیاسی جماعتوں کو بالکل ہی بین کر دیا گیا اور کچھ سیاست دانوں کو کرپشن کے الزام میں نااہل کر دیا گیا جبکہ بعض سیاستدانوں کو سیاست سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا ناقدیں نے ایبڈو کا بیان کردہ سرکاری موقف مستردیا تھا اور ناقدیں کا دعوی تھا کہ اس (ایبڈو) الیکٹیو باڈی ڈس کوایفیکیشن آرڈننس کا مقصد ملک میں سیاسی نظام کو کمزور کر کے ملٹری رول کو مضبوط بنانا تھا مگر ایوب خان نے کرپشن کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور اپنی حکومت کو کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کا متبادل ایک کرپشن سے پاک اور مضبوط اور سیاسی طور پر مستحکم متبادل قرار دیا اسی اصلاحاتی پروگرام کے تحت ایوب خان نے 1959 میں روائیتی سیاسی نظام بحال کرنے کے بجایے بنیادی جمہوریت کے نام پر بلدیاتی انتخابات کا نظام متعارف کروایا اور اسی ہزار نئے افراد بطور سیاست دان متعارف کروائے ان افراد پر مشتمل لوکل کونسلز تشکیل دی گئیں اور بعد میں انہیں اپنے صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کے لئے استعمال کیا گیا ایوب خان کا موقف تھا کہ یہ نظام جمہوریت کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں جبکہ ایوب خان کے تمام مخالفین اس بات پر متفق تھے کہ اس انتظام کا مقصد ایوب خان کی اپنی صدارت اور اختیارات مضبوط بنانے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔
دراصل جنرل ایوب کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ مغربی طرز جمہوریت پاکستانی عوام کے ورثے اور تاریخی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا جمہوریت کی تعمیر نچلی سطح سے ہونی چاہئیے جمہوریت کی اس نئی شکل کی وضاحت تفصیل کے ساتھ 1959کے حکم میں بیان کی گئی تھی یہ نچلی سطح پر لوکل سیلف گورنمنٹ کا منصوبہ تھا ایوب دور میں آج کا بنگال بھی پاکستان ہی تھا لیکن محل وقوع کے لحاظ سے مغربی ( موجودہ) پاکستان اور مشرقی( سابقہ) پاکستان کے درمیان میں پورے ایک ملک بھارت کا فاصلہ تھا اسی دوری کی بناء پر اس علاقے کے عوام کا طرز رہائش بود باش اور سیاسی شعور بھی بہت مختلف تھا یعنی جس بنیادی جمہوریت کا تصور ایوب خان نے اپنے دور میں دیا اس طرز حکمرانی کا تجربہ انگریز سرکار ایک صدی قبل 1870 میں بنگال میں کر چکی تھی اس قانون کا نام ویلیج چوکیدار ایکٹ 1870 تھا اور سیلف گورنمنٹ ایکٹ 1885کابھی اسی ضمن میں نفاذ رہا اس طرح سیاسی لحاظ سے بنگال( مشرقی پاکستان) کے عوام مغربی پاکستان سے زیادہ سیاسی شعور کے حامل تھے یہ ہی وجہ تھی اس بنیادی جمہوریت کا قانون انہیں فارورڈ کے بجائے ریورس گئیر محسوس ہوا اوران میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ اگر فوجی حکومت اسی طرح برقرار رہی تو وہ (بنگالی) محض مغربی پاکستان کی ایک کالونی بن کر رہ جائیں گے اور حکومت میں ان کی کوئی شراکت نہیں رہے گی ۔
"جاری ہے "
Lahore 35°C
Karachi 30°C
Islamabad 32°C


