مشرقی پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اسے ساتھ رہنا ہے یا نہیں یحییٰ خان کی جانب سے اس اعلان کا مقصد واضح نہیں ہو سکا کہ 29 نومبر 1969 کو یہ اعلان کیوں کیا گیا کہ یکم جنوری 1970 سے قبل سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس ٹائم ٹیبل کے مطابق 30 مارچ 1970 کو دو حکم نامے جاری کیے گئے۔ پہلا مغربی پاکستان صوبے کی تنسیخ کا حکم اور دوسرا قانونی دائرہ کار کا حکم تھا۔

پہلے حکم کے مطابق چار صوبے ون یونٹ سے علیحدہ کیے جانے تھے۔ دوسرے کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کو آئین تشکیل دینا تھا اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کروانے تھے۔ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت آئین بناتے وقت قومی اسمبلی کو پانچ بنیادی اصول مدنظر رکھنے تھے۔ دراصل یہ وہی بنیادی اصول تھے جو گول میز کانفرنس کے نتیجے میں ٹھوس شکل اختیار کر کے معاہدے تک پہنچ چکے تھے اور جن کے بارے میں جنرل یحییٰ خود یہ بیان دے چکے تھے کہ ان معاملات میں مکمل اتفاق رائے اور ہم آہنگی موجود ہے۔

دوسرا مسئلہ، جس کے بارے میں اعلان کیا گیا کہ مکمل اتفاق رائے سے طے کیا گیا ہے، وہ مغربی پاکستان صوبے کی تحلیل یا خاتمے سے متعلق تھا۔

لیگل فریم ورک آرڈر کی سب سے اہم چیز وہ طریقہ کار تھا جس کے تحت مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی جانی تھی۔ اس آرڈر کی متعلقہ شق 20 کی ذیلی شق 4 کے مطابق ہر قسم کے اختیارات، بشمول قانونی، انتظامی اور مالی امور، اس طرح وفاقی حکومت اور صوبوں میں تقسیم کیے جانے تھے کہ صوبوں کو ممکنہ حد تک خودمختاری مل جائے، لیکن اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کے قانونی، انتظامی اور مالی معاملات کے اختیارات اس حد تک ہونے چاہئیں کہ وہ اپنے داخلی اور بیرونی معاملات خوش اسلوبی سے چلا سکے اور ساتھ ہی آزادی کے تحفظ اور ملکی وحدت کو بھی برقرار اور قائم رکھ سکے۔

چھ نکاتی پروگرام کی نوعیت

سوال یہ پیدا ہوا کہ لیگل فریم ورک آرڈر میں صوبوں کی خودمختاری کی حدود کا واضح تعین کیا گیا تھا۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ ایک طرف چھ نکاتی مطالبہ تھا، جس کی وجہ سے گول میز کانفرنس میں ہونے والے مذاکرات ختم ہو گئے، دوسری جانب وہ اصول تھا جس کا ذکر لیگل فریم ورک میں کیا گیا تھا۔

اس اصول کے مطابق آئین میں پاکستان کی وحدت اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جانا تھا۔

جنرل یحییٰ کے پاس مرکز اور صوبوں کے اختیارات کی تقسیم سے متعلق آئین کے تین حوالے تھے۔ ایک گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935، دوسرا 1956 کا آئین اور تیسرا 1962 کا آئین۔ ان میں سے دوسرا آئین اسمبلی کا بنایا ہوا تھا، جو بہت کم مدت نافذالعمل رہا اور 1958 میں ختم ہو گیا، یعنی پہلے الیکشن سے قبل۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے آئین میں صوبائی خودمختاری کا تعین کر لیا جاتا، البتہ آئین میں صوبائی خودمختاری میں اضافے یا کمی کے لیے ترمیم کا کام منتخب اسمبلی پر چھوڑا جاتا۔

بات یہ ہے کہ کیا ملکی سلامتی کے لیے لیگل فریم ورک آرڈر میں دی گئی ضمانت الیکشن کے بعد اتحاد اور اتفاق پر عمل درآمد جاری رکھ سکی؟ اور کیا یہ چھ نکات اتنے مؤثر تھے کہ خودمختار صوبوں کے ساتھ ایک مضبوط اور بااختیار مرکز کی تشکیل کر پاتے؟

قانونی ڈھانچے کے دو اور اہم اجزا تھے۔

ان میں سے ایک تو کسی مخصوص اکثریت کی ضرورت کے لیے آئین میں کسی مسودے کی بطور قانون منظوری کا استثنا موجود نہیں تھا۔

جنرل یحییٰ خان کا خیال تھا کہ وہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے وہ سارے اقدامات کر رہے تھے جن پر سب کا اتفاق تھا، مگر ووٹنگ کا طریقہ کار ان میں شامل نہیں تھا۔

جنرل یحییٰ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے خیال میں یہ ضروری تھا کہ اس معاملے کو منتخب ایوان پر چھوڑ دیا جاتا، تاہم اس کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔

اگر ہر قیمت پر اتفاقِ رائے درکار تھا تو آئین کی ہی شقوں سے ایسا کرنا چاہیے تھا اور اسے روایتی طریقوں سے نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔

تاہم اس سے کہیں زیادہ اہم بات ایسی اکثریت کو زبانی بیان پر چھوڑ دینا اور اس کے نتیجے کو دیکھنا تھا۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو اسمبلی خود یہ کہہ سکتی تھی کہ فیصلہ صحت کے ذریعے ہونا چاہیے۔ یہ بات اس حقیقت سے واضح ہے کہ جب ایوان کے سامنے یہ سوال اٹھتا کہ کتنے ووٹوں کی اکثریت ہونی چاہیے تو اس سوال کا جواب اپنے آپ بھی ایک سادہ اکثریت کے ذریعے طے ہو جانا چاہیے تھا۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ وہ لوگ جو ایوان میں اکثریت رکھتے تھے، ایسے کسی فیصلے کی حمایت کرتے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے قابل بناتے۔ جہاں تک صورتحال کا ہماری سیاست سے تعلق ہے تو حقیقی صورتحال بہت مایوس کن تھی۔

لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہر قیمت پر ایک فرد، ایک ووٹ کی صورت میں مشرقی پاکستان کو آبادی کے لحاظ سے اکثریت حاصل تھی۔ ایوان کے فیصلے کرنے کے لیے ایک ہی بات اہم تھی اور وہ صوبائی خودمختاری کا معاملہ تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن پہلے چھ نکات لے کر آئے تھے اور اگر انہیں مشرقی پاکستان سے 98 فیصد نشستیں جیتنے کی توقع نہ ہوتی تو گول میز کانفرنس جاری رہنے کا ماحول بن سکتا تھا۔ اس طرح مجیب الرحمٰن یہ ثابت کر سکتے تھے کہ وہ بہت بڑی طاقت ہیں۔ لہٰذا چھ نکات مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ معاملہ ثابت ہوئے۔

تو یہ فیصلہ کرنا کہ چھ نکات ترک کرنے کے لیے ایوان میں کتنی اکثریت کی ضرورت تھی، درحقیقت مشرقی پاکستان کو ہی طے کرنا تھا۔ بالفاظِ دیگر کہا جا سکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کو اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ اسے مغربی پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔