راولپنڈی میں پی ٹی آئی کسان مارچ کے اسلام آباد کی جانب بڑھنے کے اعلان کے بعد سیکیورٹی انتظامات ہائی الرٹ کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے، سرکاری و نجی املاک کے تحفظ اور معمولاتِ زندگی کو جاری رکھنے کے لیے اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون کی خلاف ورزی، راستوں کی بندش اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کے ساتھ مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

راولپنڈی، اٹک اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے 15 ہزار اضافی اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ اٹک میں 30 ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیض آباد، ٹی چوک، جی ٹی روڈ، روات، گوجر خان، ٹیکسلا اور مارگلہ چیک پوسٹ سمیت جڑواں شہروں کے ملحقہ راستوں پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی ہوگی

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات

ذرائع کے مطابق تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل جاری رکھنے کے لیے مکمل معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ تاجروں اور کاروباری مراکز کے تحفظ کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔

حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے سیکیورٹی اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔