جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے، دھرنے جاری رہیں گے اور مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال خراب ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکن مسلسل میدان میں موجود رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پلان اے، بی اور سی کے تحت مختلف مقامات سے اسلام آباد آنا ہے، تاہم ان کی جماعت کا ایجنڈا کسی قسم کا فساد، انتشار یا جھگڑا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتی تو لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم وطن واپس آئیں گے تو ان سے بات کریں گے، اگر وزیراعظم نے ریلیف دے دیا تو ٹھیک، ورنہ اکتوبر میں دوبارہ لانگ مارچ کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر نے پنجاب کی تعلیمی صورتحال پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ نویں جماعت میں 52 فیصد بچے فیل ہوئے ہیں اور انہوں نے اس صورتحال کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تعلیمی پالیسی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ موجودہ تعلیمی پالیسی پنجاب کے بچوں کو جہالت کی طرف لے جا رہی ہے۔
Lahore 35°C


