اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے حج پالیسی 2027 سے 2030 اور نجی حج اسکیم کے تحت نئے حج گروپ آرگنائزرز کی پری رجسٹریشن سے متعلق معاملے پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے نئے آپریٹرز کو آئندہ سماعت تک حتمی حج کوٹہ جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے نجی حج آپریٹرز کی جانب سے دائر درخواست پر وفاقی حکومت، وزارتِ مذہبی امور اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وہ پہلے سے رجسٹرڈ حج گروپ آرگنائزرز ہیں، تاہم نئی پالیسی کے تحت انہیں حج کوٹہ فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سابقہ نظام کے تحت ان کی رجسٹریشن، تجربے اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہوچکا تھا، لیکن نئی پالیسی میں متعارف کرائی گئی نئی کیٹیگریز کے باعث انہیں کوٹے سے محروم کردیا گیا۔

سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارتِ مذہبی امور سے حج پالیسی 2027-30 کی تیاری اور منظوری سے متعلق کارروائی کے منٹس طلب کیے۔

عدالت نے نئے حج گروپس کی تھرڈ پارٹی جانچ پڑتال کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار، نئے حج آپریٹرز کے لیے مقررہ اہلیت اور دیگر متعلقہ معیار کی تفصیلات بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ حج پالیسی اور پلان 2027-30 کیا متعلقہ قانون اور قواعد کے مطابق مجاز اتھارٹی نے تیار کیا ہے؟ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پہلے سے رجسٹرڈ لیکن نان کوٹہ حج گروپ آرگنائزرز کو نظرانداز کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔

عدالت نے 21 جولائی کے نوٹیفکیشن کے تحت نئے حج آپریٹرز سے متعلق جاری کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔ تاہم واضح کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں آئندہ سماعت تک نئے آپریٹرز کو **حتمی حج کوٹہ جاری نہیں کیا جائے گا**۔

عدالت نے قرار دیا کہ حج کوٹے کی تقسیم مکمل ہونے کی صورت میں درخواست گزاروں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں اور بعد ازاں عدالت میں زیرِ سماعت درخواست غیر مؤثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت میں فریقین کی جانب سے جاری نوٹس وصول کیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل اپنا جواب جمع کرایا جائے۔

عدالت نے حج انتظامات کی وقت کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 جولائی کے نوٹیفکیشن کے تحت جاری عمل کو معطل کرنے سے گریز کیا، تاہم پالیسی اور کوٹے کی تقسیم سے متعلق اٹھائے گئے قانونی سوالات کا جائزہ لینے کو ضروری قرار دیا۔

کیس کی مزید سماعت 26 اگست 2026 کو ہوگی۔