مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سعودی عرب کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی حکام نے ریاض سمیت مختلف علاقوں میں حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاعات دی ہیں۔ سعودی عرب نے ان حملوں کے تناظر میں بعض اتحادی ممالک سے دفاعی تعاون بھی طلب کیا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بھی اسلام آباد کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سعودی عرب پر جارحیت کی صورت میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے، جبکہ دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے۔

ترکیہ نے بھی سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں تکنیکی اور فوجی تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹس میں پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے حوثی ٹھکانوں پر مشترکہ فضائی حملوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا اور بعض غیرمصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث سعودی عرب نے دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے اور اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو رواں سال حج کے انعقاد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

تاہم اس وقت ان دعوؤں کی سرکاری طور پر آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ سعودی حکام کی جانب سے عمرہ زائرین کے لیے ایسی عمومی ہدایت یا حج کی منسوخی سے متعلق کوئی حتمی اعلان دستیاب نہیں ہے۔

موجودہ صورتحال میں سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے سیکیورٹی اقدامات میں اضافے کے باوجود حج سے متعلق کسی بھی فیصلے کو سعودی حکومت کے باضابطہ اعلان سے ہی حتمی سمجھا جائے گا۔

ادھر حوثی حملوں کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں سعودی عرب کے اہم شہروں، دفاعی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف میں شامل کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے پاکستان اور ترکیہ کو بھی سعودی عرب کی فوجی مدد کی صورت میں دھمکیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی سلامتی، علاقائی دفاعی اتحاد اور خطے میں توانائی و تجارتی راستوں کی صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔