پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی حکام سے رابطہ کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دو روز قبل ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں اس معاہدے کو ایک اہم سفارتی اور دفاعی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ کہیں یہ اتحاد ایران یا اس کے حامیوں کے خلاف تو نہیں۔
اسحاق ڈار نے ایرانی حکام کو واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کے کوئی جارحانہ مقاصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد دفاع اور خطے میں مقدس مقامات بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف ہونے والی جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں تینوں ممالک مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔
اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کو یہ بھی باور کرایا کہ اس معاہدے کو کسی اسلامی ملک کے لیے خطرے یا تشویش کا باعث نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد مسلم دنیا کے درمیان تصادم پیدا کرنا نہیں بلکہ سعودی عرب اور مکہ مکرمہ سمیت مقدس مقامات کے دفاع کے لیے مشترکہ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اسلامی ممالک کو اس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کے بجائے حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے تعاون اور مشترکہ دفاعی اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کو معاہدے کے مقاصد سے براہِ راست آگاہ کرنے کا اقدام پاکستان کی جانب سے خطے میں سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانا چاہتا ہے تو دوسری جانب ایران کو یہ یقین دہانی بھی کرانا چاہتا ہے کہ اس تعاون کو تہران کے خلاف کسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کے لیے یہ توازن خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ سعودی عرب، ترکی اور ایران تینوں ہی مسلم دنیا میں اہم سیاسی اور تزویراتی کردار رکھتے ہیں۔ ایسے میں مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی وضاحتیں خطے میں ممکنہ غلط فہمیوں کو کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی کوشش قرار دی جا سکتی ہیں۔
Lahore 29°C
Islamabad 28°C


