اسلام آباد: جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں ہوا، جس میں جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے عوامی ریلیف اور معاشی معاملات سے متعلق چھ تجاویز پیش کر دیں۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے حکومتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس کے سامنے جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز رکھ دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا، جبکہ حکومتی ٹیم کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے سامنے تمام اہم مطالبات اور تجاویز واضح طور پر رکھ دی گئی ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے باعث معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے سامنے مجموعی طور پر چھ تجاویز پیش کی ہیں۔

دوسری جانب حکومتی وفد میں شامل احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے تجاویز طلب کی ہیں اور ان تجاویز کو متعلقہ وزارتوں تک پہنچایا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کوئی بھی حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں احتجاج ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث متاثر ہوئی ہے، جبکہ حکومت کی بھی کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات حکومت کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم جماعت اسلامی کی تجاویز کا جائزہ لے کر متعلقہ وزارتوں سے مشاورت کی جائے گی۔

حکومتی وفد میں رانا ثناء اللہ، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی بھی شامل تھے۔

احسن اقبال کے مطابق جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جمعرات کو ہوگا۔