راولپنڈی کے مال روڈ پر ایک حساس عمارت کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک مشتبہ شخص ہلاک ہو گیا، جس کے بعد علاقے میں تشویش اور خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص حساس عمارت کی جانب بڑھ رہا تھا، جسے موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کی، جس کے بعد اہلکار کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ شخص کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ عطا تارڑ کے مطابق پی ٹی آئی کارکن کی جانب سے سیکیورٹی اہلکار پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے اور ان کے بقول تحریک انصاف پُرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیچھے مذموم مقاصد ہوتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے وفاقی وزیر اطلاعات کے دعووں کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے راولپنڈی فائرنگ واقعے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کسی بھی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتی اور قانون شکنی میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی سیاسی جماعت یا کارکن کو واقعے کا ذمہ دار قرار نہ دیا جائے۔ پارٹی کے مطابق واقعے کو سیاسی مخالفین کے خلاف الزام تراشی یا سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔

تحریک انصاف نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، دستیاب شواہد اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ واقعے کے اصل ذمہ داروں کا تعین آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے کیا جائے اور سیاسی بیانات کے بجائے ٹھوس شواہد کو بنیاد بنایا جائے۔