اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا، جس میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور نیب حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیب کی کارکردگی، حالیہ قانونی ترامیم، شکایات کے نظام اور ادارے کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ نیب ہیڈکوارٹرز میں کمپلینٹ سیل قائم کر دیا گیا ہے جبکہ تمام سات ریجنل ہیڈ آفسز کو نیب ہیڈکوارٹرز کے ساتھ لنک کر دیا گیا ہے تاکہ شکایات کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔
چیئرمین نیب نے بتایا کہ ماضی میں 2500 سے زائد شکایات زیر التوا تھیں، جن میں تقریباً 80 فیصد جعلی نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے شکایات کی جانچ پڑتال کا نیا نظام بنایا گیا ہے۔ بعض اوقات کسی شخص کو ٹھیکہ نہ ملنے یا الیکشن میں حصہ لینے کی صورت میں بھی شکایات درج کرا دی جاتی تھیں۔
فاروق ایچ نائیک نے سوال کیا کہ جعلی شکایات درج کرانے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد ریاستی وسائل ضائع کرتے ہیں اور جھوٹی شکایات درج کرانے والوں کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ بعض جعلی اور بدنیتی پر مبنی شکایات کے حوالے سے انکوائریز شروع کی گئی ہیں اور ایسے عناصر کو مثال بنایا جائے گا۔
اجلاس میں نیب کے سیاسی مقدمات سے متعلق کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سیاسی کیسز کی وجہ سے نیب کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 2022 سے پہلے کے نیب اور موجودہ نیب کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے، ان کے دور میں کسی سیاسی شخصیت کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ "ہم اے پولیٹیکل رہیں گے اور خدا کی قسم کسی کے خلاف جعلی کیس نہیں بنائیں گے۔" انہوں نے کہا کہ نیب کا مقصد کسی کی پگڑی اچھالنا نہیں بلکہ کرپشن کی نشاندہی اور ریکوری کرنا ہے۔
سیاستدانوں کی کرپشن کے اعداد و شمار
چیئرمین نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ سیاستدانوں سے متعلق کرپشن کی شکایات اور کیسز کا حصہ مجموعی کیسز کا تقریباً 6 فیصد ہے، جبکہ سرکاری حکام کے خلاف کرپشن کی شکایات تقریباً 11 فیصد اور نجی کاروباری شعبے سے متعلق شکایات تقریباً 40 فیصد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا میں سیاستدانوں کی کرپشن کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی سیاستدان کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نیب کو چھوٹی چھوٹی کرپشن کے بجائے بڑے اور میگا کرپشن کیسز پر توجہ دینی چاہیے۔ جواب میں چیئرمین نیب نے کہا کہ اگر کمیٹی میگا کرپشن کا کیس بھیجے گی تو نیب انہیں مایوس نہیں کرے گا۔
30 وفاقی اداروں کی کرپشن رسک اسسمنٹ
ڈی جی نیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کے اکنامک ریفارمز ایکشن کے تحت 30 وفاقی اداروں کی اسسمنٹ اسٹڈی شروع کر دی گئی ہے، جس کی رپورٹ اکتوبر میں جاری کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ان اداروں میں اخراجات اور کرپشن کے خطرات کی بنیاد پر رینکنگ کی جائے گی۔ زیادہ خطرے والے ادارے نیب کی سخت مانیٹرنگ میں ہوں گے۔
ڈی جی نیب کے مطابق ایسے 25 سے 30 محکموں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جہاں کرپشن کے امکانات زیادہ ہیں۔ اداروں کی رینکنگ کا عمل اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا۔
نیب نے وسل بلور میکنزم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت ادارے کے اندر رہتے ہوئے کرپشن کی نشاندہی کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
پارلیمنٹرینز اور سرکاری ملازمین سے متعلق نیا طریقہ کار
ڈی جی نیب نے بتایا کہ کسی پارلیمنٹرین کے خلاف شکایت موصول ہونے کی صورت میں اسے متعلقہ اسمبلی کے اسپیکر کے پاس بھیجا جائے گا، جبکہ کسی وفاقی ملازم کے خلاف شکایت آنے پر معاملہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھیجا جائے گا۔
متعلقہ ادارے کو مزید کارروائی کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جائے گا۔
ڈی جی نیب نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ جرم ثابت ہونے تک زیرِ کارروائی شخص کو "ملزم" کے بجائے "ڈیفنڈر" لکھا جائے گا۔
1991 سے جون 2026 تک 16 ہزار ارب روپے سے زائد ریکوری
نیب کی مجموعی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈی جی نیب نے بتایا کہ ادارے نے 1991 سے جون 2026 تک 16 ہزار 93 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ 36 برسوں کے دوران نیب نے 5 لاکھ 5 ہزار 799 شکایات کا جائزہ لیا، جبکہ 1991 سے اب تک 7 ہزار 339 انویسٹی گیشنز مکمل کی گئی ہیں۔
ڈی جی نیب کے مطابق نیب نے 1 لاکھ 21 ہزار 147 انکوائریز کیں اور 4 ہزار 105 ریفرنسز دائر کیے۔
انہوں نے بتایا کہ 2022 سے 2024 کے دوران کیسز کی شفٹنگ بہت زیادہ ہوئی، جس سے کیسز کے انتخاب اور ترجیحات کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے۔ موجودہ نظام کے تحت نیب 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کی خردبرد کے کیسز کو براہ راست ڈیل نہیں کرتا۔
"ہمیں کرپشن کے سمندر میں پھینک کر ہاتھ باندھ دیے گئے"، چیئرمین نیب
چیئرمین نیب نے کمیٹی کو بتایا کہ 2022 اور 2023 میں سیاستدان، وزراء، بیوروکریٹس اور کاروباری افراد کام کرنے سے گریزاں تھے، تاہم نیب نے محنت کی اور اب مختلف ادارے اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں کرپشن کے سمندر میں پھینک کر ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔"
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ نیب کے اختیارات بہت کم کر دیے گئے ہیں اور بعض معاملات میں پولیس کے ایس ایچ او کے پاس بھی ان کے ڈی جی سے زیادہ اختیارات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں نیب نے 17 ارب روپے کی ریکوری کی ہے اور ادارہ کسی کے خلاف جعلی مقدمہ بنانے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔
اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نیب کے اختیارات میں ماضی میں ادارے کے غلط استعمال کے باعث کمی کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین نیب کی دیانت داری اور صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ کمیٹی کی تنقید کسی فرد کے بجائے ادارے کے نظام اور کارکردگی سے متعلق ہے۔
اجلاس میں نیب قوانین میں مزید بہتری کے لیے تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ نیب کی جانب سے دی جانے والی قانونی ترامیم اور اصلاحات کی تجاویز کو آئندہ قانون سازی کے دوران جائزہ لے کر شامل کیا جائے گا۔
Lahore 29°C
Islamabad 28°C


