اسلام آباد: حکومت نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) نے عالمی سپلائرز سے گندم کی خریداری کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کردیا۔

ٹی سی پی کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم تازہ فصل کی ہونی چاہیے، جبکہ بین الاقوامی سپلائرز کی جانب سے کم از کم 50 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیشکش قابلِ قبول ہوگی۔ گندم کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک سی ایف آر بنیاد پر پہنچائی جائے گی۔

ٹینڈر کے تحت گندم کی خریداری کے لیے بولیاں 16 ستمبر کو صبح 11 بج کر 30 منٹ تک جمع کرائی جاسکیں گی، جبکہ اسی روز دوپہر 12 بجے بولیاں کھولی جائیں گی۔

حکام کے مطابق درآمد کی جانے والی گندم صوبوں کی طلب اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت سندھ کو 3 لاکھ ٹن، پنجاب کو 2 لاکھ 50 ہزار ٹن جبکہ خیبرپختونخوا کو 2 لاکھ ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت تقریباً 3 کروڑ 13 لاکھ ٹن ہے۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں گندم کی پیداوار 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کے مطابق جولائی کے پہلے ہفتے تک پاسکو کے پاس تقریباً 17 لاکھ 83 ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ موجود تھا۔ حکومت کی جانب سے نئی درآمد کا مقصد صوبوں کی ضروریات کو پورا کرنا اور ملک میں گندم کی دستیابی برقرار رکھنا ہے۔