پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (CA) کا امتحان مشکل ترین پیشہ ورانہ امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے، مگر اصل مسئلہ صرف امتحان کی دشواری نہیں بلکہ اس کا طریقۂ کار بھی ہے۔ پاکستان میں پیشہ ورانہ تعلیم اب بھی بڑی حد تک رٹے پر مبنی ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تصوراتی، تجزیاتی اور عملی تعلیم کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

اس فرق کا عملی تجربہ اپنی اولاد کی تعلیم کے دوران ہوا۔ تینوں بچے نرسری سے لے کر او لیول اور اے لیول تک کیمبرج نظامِ تعلیم سے وابستہ رہے، جہاں تنقیدی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم، پاکستان میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کی تعلیم کے دوران انہیں ایسے امتحانی نظام کا سامنا کرنا پڑا جہاں معلومات کو سمجھنے کے بجائے انہیں یاد رکھنے کی صلاحیت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔

او لیول اور اے لیول میں نمایاں گریڈ حاصل کرنے کے باوجود دو بچوں نے اپنی تعلیمی سمت تبدیل کر لی۔ ایک نے اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس میں داخلہ لے کر بہترین کارکردگی دکھائی اور وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم سے بھی مستفید ہوا، جبکہ دوسرے نے فاسٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر نمایاں تعلیمی نتائج حاصل کیے۔ صرف بڑی بیٹی نے مسلسل محنت اور غیر معمولی استقامت کے ذریعے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے امتحانات کامیابی سے مکمل کیے۔

یہ مسئلہ صرف چارٹرڈ اکاؤنٹنسی تک محدود نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی کئی بڑی جامعات کے داخلہ امتحانات بھی مقامی نصاب اور روایتی اندازِ تعلیم کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں، جس کے باعث کیمبرج پس منظر رکھنے والے طلبہ کو اضافی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ دوسری جانب یہی طلبہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس سے موجودہ امتحانی نظام کے معیار پر سوال اٹھتے ہیں۔

موجودہ نظام میں اکثر وہ طلبہ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو معلومات کو یاد رکھنے میں مہارت رکھتے ہیں، جبکہ تحقیق، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے جیسی مہارتوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو جدید دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔ یہی رجحان اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں بھی نظر آتا ہے، جہاں عملی قابلیت، فیصلہ سازی اور تجزیاتی صلاحیت کے بجائے روایتی امتحانی کارکردگی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

جب کسی ریاست کا تعلیمی نظام رٹے کو کامیابی کا بنیادی معیار بنا دے تو اس کے اثرات صرف امتحانی نتائج تک محدود نہیں رہتے۔ ایسے نظام سے اچھے نمبر حاصل کرنے والے طلبہ تو پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ایسے محقق، سائنس دان، منتظم اور پالیسی ساز تیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو نئے خیالات پیش کر سکیں اور بدلتی ہوئی دنیا کے مسائل کا مؤثر حل تلاش کر سکیں۔

دنیا کے کئی ممالک اپنے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ بھارت میں بھی امتحانی نظام میں اصلاحات، شفافیت بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے۔ امتحانی پرچوں کی تیاری، نگرانی اور جانچ کے مراحل میں انسانی مداخلت کم کرنے کے اقدامات کا مقصد بدعنوانی، پیپر لیک اور غیر شفاف طریقوں کی روک تھام ہے۔

ایک مضبوط تعلیمی نظام صرف معلومات منتقل نہیں کرتا بلکہ طلبہ میں شعور، سوال کرنے کی صلاحیت، اختلافِ رائے برداشت کرنے کی قوت اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔ جس معاشرے میں طلبہ آزادانہ سوچ سکیں، تحقیق کر سکیں اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں، وہی حقیقی معنوں میں ترقی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ میرٹ، احتساب اور شفافیت کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں اختیارات کے غلط استعمال، طلبہ کے استحصال اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے مضبوط نظام قائم ہونا چاہیے۔ جب باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع نہیں ملتے تو ان میں مایوسی بڑھتی ہے اور بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستانی نوجوانوں میں علاقائی اور لسانی تقسیم بھی قومی یکجہتی کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ طلبہ اور نوجوان جب خود کو سب سے پہلے پنجابی، پختون، سندھی یا بلوچ سمجھنے لگیں اور مشترکہ قومی شناخت کمزور ہو جائے تو اجتماعی مسائل کے خلاف متحد آواز پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس تقسیم کو کم کرنے کے لیے ایسا تعلیمی نظام ضروری ہے جو شعور، رواداری اور پاکستانیت کو فروغ دے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کو عالمی تعلیمی اور معاشی مسابقت میں مؤثر مقام حاصل کرنا ہے تو اسے رٹے پر مبنی نظام سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تحقیق، تخلیقی سوچ، ٹیکنالوجی، عملی مہارت اور تنقیدی شعور کو تعلیمی نظام کا بنیادی حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی راستہ نوجوانوں کو صرف امتحانات میں کامیابی نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت، اختراع اور قومی ترقی کے لیے بھی تیار