مشرقی پاکستان کے سابق وزیر اعلی نور الامین نے اس بات کی تصدی کی کہ مارشل لاء کے نفاذ کے تین سال بعد بھی جب ملک کا کوئی أئین تشکیل نہیں دیا جا سکا تو مشرقی پاکستان کے عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا رفتہ رفتہ ملک میں بے چینی بڑھتی چلی گئی صدر ایوب نے ائینی کمیشن کی صدارتی نظام حکومت کی واحد تجویز قبول کی لیکن دیگر تجاویز جن میں متوازن اختیارات پر مبنی امریکی طرز کا صدارتی نظام دو ایوانی قانون ساز اسمبلی کا قیام اسمبلیوں اور صدر اور نائب صدر کے انتخاب کے لئے انتخابی ادارے کے قیام کی تجاویز شامل تھیں مسترد  کر دیں جنرل ایوب نے 1962میں ایک ایس آئین بنایا جو نہ تو صدارتی تھا اور نہ پارلیمانی اور نہ ہی اس میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کی گیا تھا اس کے علاوہ مقننہ کو بھی ایسے موثر اور واضح اختیارات نہیں دئیے گیے جن کے ذریعے ملک کی انتظامیہ کو کنٹرول کیا جا سکتا بلکہ اس کے برعکس تمام اختیارات صدر کی ذات میں مرتکز کر دیے گیے تھے ۔

صدر کا انتخاب بنیادی جمہوریت کے اسی ہزار ارکین کے ذریعے عمل میں آنا تھا ان اراکین کا کام صرف صدر کا انتخاب کرنا تھا انہیں بجٹ میں اپنی رائے دینے کی بھی اجازت نہیں تھی صوبوں کو کسی بھی نوعیت کی خود مختاری سے بھی محروم رکھا گیا یہاں تک صوبائی وزراء کے تقرر کا اختیار بھی صدر نے اپنے ہی پاس رکھا

اسے آئین اور اقدامات کے نتیجے میں دونوں صوبوں کے عوام میں شدید مایوسی پھیل گئی مایوسی کی وجہ ایوب خان کے وہ اقدامات بھی تھے جن ک تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے کہ اپوزیشن کو کچل دیا گیا سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ایبڈو ( EBDO) کے تحت چھ سال کے لئے سیاستدانوں کو نا اہل قرار دے دیا گیایہ ہی نہیں پاکستان پبلی کیشن اڑڈننس 1963 کے تحت ازاد میڈیا کا گلا گھونٹ کر نیشنل پریس ٹرسٹ 1964 کے تحت کنٹرولڈ میڈیا کا قیام عمل میں لایا گیا