پاکستان میں چار مارشل لاء کے نفاذ کی وجوہات مقاصد اور اثرات پر مشتمل آرٹیکلز کی ایک سیریز کا اغاز کیا جا رہا ہے یہ وہ تاریخ ہے جس سے آج کی نوجوان نسل بالکل نا بلد ہے آرٹیکل کی اس سیرز سے قارئیں کو تاریخ کے کئی تاریک پہلووں سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا 


فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لاء سات اکتوبر انیس سو اٹھاون میں لگا کر پاکستان کی سیاسی بنیاد ہی تبدیل کر کے رکھ دی اور پاکستان کے عسکری ادارے کو حاکم اعلی کا درجہ دے ڈالا جبکہ آئیں کے تحت اس اس ادارے کی حقیقی ذمے داری سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتی ہے 


تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مارشل لاء سے قبل ملک میں سیاسی استحکام ناپید ہو چکا تھا اور انیس سو پچاس کی دہائی میں حکومتیں اتنی جلدی جلدی تبدیل ہورہی تھیں 

 کہ نہرو کو یہ طنزیہ بیان دینے کا بھی موقع مل گیا کہ اتنی جلدی تو میں اپنی دھوتی بھی تبدیل نہیں کرتا جتنی جلدی پاکستان میں حکومت تبدیل ہو جاتی ہے سیاسی جماعتیں آپس میں تقسیم ہو چکی تھیں اور حکومت اور انتظامیہ میں اختیارات کی کھینچا تانی شروع ہوگئی تھی 

اس وقت کی حکومت نے انیس سو چھپن میں پہلا آئین تشکیل دیا جس میں پاکستان کو اسلامی پارلیمانی ریاست قرار دیا گیا لیکن یہ آئین بھی پاکستان کو سیاسی استحکام نہ دے سکا 

اس وقت کے صدر اسکندر مرزا پارلیمانی نظام سے سخت مایوس ہوگئے اور انہوں نےآئینی نظام ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سات اکتوبر انیس سو اٹھاون کے روز انیس سو چھپن کا آئین منسوخ کر دیا قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی اور ملک بھر میں مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کر کے آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا پاکستان کے لئے یہ ایک ایساتاریخی لمحہ ثابت ہوا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دھارا تبدیل کر کے رکھ دیا  یہ پاکستان میں پہلا ملٹری راج تھا 

پھر اسکندر مرزا کے ساتھ وہی ہوا جو اپنوں سے غداری کرنے والوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے مکمل اختیار کے ساتھ بلا شرکت غیرے مستحکم صدارت کا خواب دیکھنے والے اسکندر مرزا کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے ٹھیک بیس روز بعد ان کے عہدہ صدارت سے سبکدوش کر دیا اور ستائس اکتوبر انیس سو اٹھاون کو اسکندر مرزا کو جبری مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد انہیں جلا وطن کر دیا گیا اور اپنی باقی زندگی انہوں نے لندن میں جلا وطنی کی حالت میں گذاری انیس سو انہتر میں اسکندر مرزا کا لندن میں ہی انتقال ہوگیا اسکندر مرزا کے استعفے کے بعد ایوب خان صدارت کا عہدہ سنبھال کر ملک کی سپریم اٹھارٹی بن گئے 

ایوب خان نے پہلا کام ملک سیاسی جماعتوں پر سخت بندش عائد کرنے کا کیا 

الیکٹیوُ باڈیُڈسُکولیفیکیشن آرڈیننس جاری کیاُ.