آپ کے پڑوسی نے گھر کی چھت پر سولر پینل لگا لیے ہیں، آپ کا بجلی کا بل اب بھی چھوٹے موٹے قرضے کی قسط جیسا محسوس ہوتا ہے، اور خاندان کے ہر واٹس ایپ گروپ میں یہی بحث جاری ہے کہ 2026 میں نیٹ میٹرنگ اب بھی فائدہ مند ہے یا نہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا اکثر سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں روف ٹاپ سولر سے متعلق قواعد میں حال ہی میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس تبدیلی کو سمجھ لیا جائے تو نئی پالیسی، بجلی کے بل اور سولر سسٹم کی مالی افادیت کی پوری تصویر کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔

اہم وضاحت: ذیل میں بیان کی گئی ریگولیٹری تبدیلیاں سرکاری نیپرا نوٹیفکیشنز اور مرکزی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔ بعض مخصوص نرخ، اخراجات اور مدت سے متعلق اعدادوشمار سولر انسٹالرز کے صنعتی تخمینے ہیں، سرکاری طور پر مقرر کردہ اعداد نہیں۔ ایسے مقامات پر اس فرق کی وضاحت کی گئی ہے۔


پہلے یہ سمجھیں کہ نیٹ میٹرنگ کیا تھی؟

اپنے بجلی کے میٹر کو ایک اسکور بورڈ تصور کریں۔ 2015 میں متعارف کرائے گئے پرانے نظام کے تحت اگر آپ کے سولر پینل دن کے وقت 100 یونٹ قومی گرڈ کو بھیجتے اور رات کے وقت آپ فریج، پنکھوں اور دیگر ضروریات کے لیے 100 یونٹ واپس استعمال کرتے تو دونوں ایک دوسرے کے برابر شمار ہوتے۔

یعنی ایک یونٹ برآمد کرنے سے ایک یونٹ درآمد شدہ بجلی کا اثر ختم ہو جاتا تھا۔ یہ نظام سادہ بھی تھا اور صارفین کے لیے خاصا فائدہ مند بھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی استعداد تیزی سے بڑھی اور صنعتی اندازوں کے مطابق 2026 تک یہ ہزاروں میگاواٹ تک پہنچ گئی۔


بڑی تبدیلی: نیٹ بلنگ کا آغاز

9 فروری 2026 کو نیپرا نے باضابطہ طور پر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 جاری کیے، جن کے تحت پرانا ایک کے بدلے ایک یونٹ والا نظام ختم کرکے نیٹ بلنگ متعارف کرا دی گئی۔

بظاہر یہ صرف نام کی تبدیلی لگتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے مالی اثرات بہت بڑے ہیں۔

نیٹ بلنگ کے تحت گرڈ کو دی جانے والی اور گرڈ سے لی جانے والی بجلی کی قیمت اب برابر نہیں رہی۔ صارف اب بھی اپنی اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے اسے نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق ادائیگی ہوگی۔

نیپرا کے نوٹیفکیشن میں اس نرخ کو کسی ایک مقررہ روپے کی رقم سے منسلک نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ قومی توانائی کی قیمتوں کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم سولر انسٹالرز اس وقت اس کی عمومی سطح تقریباً 11 سے 13 روپے فی یونٹ بتا رہے ہیں۔

دوسری طرف، گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی بدستور مکمل ریٹیل نرخ پر وصول کی جائے گی، جو کراچی سمیت کئی شہروں میں بعض گھریلو صارفین کے لیے 55 سے 65 روپے فی یونٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہ فرق خاصا بڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ بجلی گرڈ کو بیچنے اور رات کو مہنگی بجلی واپس خریدنے والی حکمت عملی اب پہلے کی طرح فائدہ مند نہیں رہی۔

نئے نظام میں اضافی بجلی کی رقم ماہانہ کے بجائے سہ ماہی بنیاد پر طے کی جائے گی، جبکہ نئے نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی مدت پانچ سال تک محدود ہوگی، جس کے بعد ان کی تجدید درکار ہوگی۔


پہلے سے نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والوں کے لیے کیا ہوگا؟

یہ وہ نکتہ ہے جس نے بہت سے موجودہ صارفین کی تشویش کم کی ہے۔

اگر آپ نے 9 فروری 2026 سے پہلے نیٹ میٹرنگ کا معاہدہ کیا تھا تو نیپرا کے مطابق آپ کا موجودہ معاہدہ اپنی اصل شرائط کے تحت جاری رہے گا۔ ریگولیٹر نے سولر ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کے ذریعے موجودہ صارفین کے حقوق کو تحفظ دیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ آپ کا بلنگ طریقہ، منظور شدہ نرخ اور معاہدے کی شرائط اس کی مدت ختم ہونے تک برقرار رہیں گی۔

البتہ اگر آپ اپنے موجودہ سولر سسٹم کی استعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ضروری نہیں کہ اضافی پینلز بھی انہی پرانی شرائط کے تحت شامل ہوں۔ اس لیے سسٹم بڑھانے سے پہلے متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی، یعنی ڈسکو، سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔


اب نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست کیسے دی جائے؟

درخواست کا بنیادی طریقہ زیادہ تبدیل نہیں ہوا، لیکن شرائط اور مالی معاملات کی تفصیل اہم ہو گئی ہے۔


1۔ نیپرا سے رجسٹرڈ انسٹالر کا انتخاب کریں

ایسے انسٹالر کی خدمات حاصل کریں جو سسٹم کا ڈیزائن تیار کر سکے اور وہ سنگل لائن اسکیمیٹک ڈایاگرام فراہم کرے جس کی متعلقہ ڈسکو کو ضرورت ہوتی ہے۔


2۔ متعلقہ ڈسکو میں درخواست جمع کرائیں

لیسکو، آئیسکو، میپکو، کے الیکٹرک یا اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کے ذریعے درخواست جمع کرائیں۔ عام طور پر درج ذیل دستاویزات درکار ہوتی ہیں:


  • شناختی کارڈ کی نقل
  • حالیہ بجلی کا بل
  • سولر سسٹم کی تکنیکی تفصیلات
  • سنگل لائن ڈایاگرام
  • انسٹالر سے متعلق ضروری دستاویزات

3۔ ڈیمانڈ نوٹس کی ادائیگی

نیپرا نے مختصر مدت کے لیے ایک ہزار روپے فی کلوواٹ لائسنسنگ فیس متعارف کرائی تھی، لیکن 28 اپریل 2026 کو 25 کلوواٹ تک کے سسٹمز کے لیے یہ فیس ختم کر دی گئی۔

یہ چھوٹ 9 فروری 2026 سے مؤثر قرار دی گئی، اس لیے 25 کلوواٹ یا اس سے کم استعداد والے زیادہ تر گھریلو سسٹمز پر یہ فیس لاگو نہیں ہوگی۔

البتہ 25 کلوواٹ سے زیادہ کے بڑے تجارتی یا صنعتی سسٹمز پر ایک ہزار روپے فی کلوواٹ فیس بدستور لاگو ہو سکتی ہے۔


4۔ سسٹم کا معائنہ

ڈسکو کا انجینئر سسٹم کا معائنہ کرتا ہے۔ اس میں ڈی سی اور اے سی دونوں جانب سرج پروٹیکشن ڈیوائسز، وائرنگ، انورٹر، حفاظتی انتظامات اور دیگر تکنیکی تقاضے چیک کیے جاتے ہیں۔

تمام شرائط پوری ہونے پر کمپلائنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔


5۔ دو طرفہ میٹر کی تنصیب

بائی ڈائریکشنل میٹر وہ میٹر ہے جو گرڈ کو دی جانے والی اور گرڈ سے لی جانے والی بجلی کو الگ الگ ریکارڈ کرتا ہے۔

انسٹالرز عموماً اس میٹر اور متعلقہ اخراجات کا اندازہ 18 ہزار سے 20 ہزار روپے کے درمیان بتاتے ہیں۔ تاہم یہ نیپرا کا طے شدہ سرکاری نرخ نہیں، اس لیے حتمی قیمت اپنی ڈسکو سے معلوم کرنا بہتر ہوگا۔

انسٹالرز کے مطابق درخواست سے میٹر فعال ہونے تک عموماً چار سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں، لیکن یہ مدت متعلقہ ڈسکو، شہر، موسم اور درخواستوں کے حجم کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔


کیا سولر اب بھی فائدہ مند ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ سولر اب بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اب حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پرانے نظام میں زیادہ سے زیادہ اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنا مالی طور پر پرکشش تھا۔ نئے نیٹ بلنگ نظام میں اصل فائدہ اپنی پیدا کردہ بجلی خود استعمال کرنے میں ہے۔

وہ گھر اور کاروبار نسبتاً زیادہ فائدے میں رہیں گے جو اپنے سولر سسٹم کی استعداد کو دن کے وقت اپنے حقیقی استعمال کے مطابق رکھیں گے، بجائے اس کے کہ صرف زیادہ سے زیادہ بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کے لیے بڑا سسٹم نصب کریں۔


ہائبرڈ سولر سسٹم کیوں اہم ہو گیا ہے؟

اسی تبدیلی کی وجہ سے ہائبرڈ سولر سسٹمز کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ ہائبرڈ سسٹم صارف کو یہ سہولت دیتا ہے کہ:


  • سولر بجلی براہِ راست استعمال کی جائے
  • اضافی بجلی بیٹریوں میں محفوظ کی جائے
  • ضرورت کے وقت ہی گرڈ سے بجلی حاصل کی جائے
  • لوڈشیڈنگ کے دوران ضروری آلات چلتے رہیں

اس طرح صارف کم نرخ پر اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کے بجائے اپنی پیداوار کا بڑا حصہ خود استعمال کر سکتا ہے۔

سولر انسٹالرز اس وقت ایک مناسب انداز سے ڈیزائن کیے گئے گھریلو سسٹم کی واپسی کی مدت تقریباً تین سے پانچ سال بتا رہے ہیں۔ تاہم یہ صرف صنعتی تخمینہ ہے۔ اصل مدت گھر کے بجلی استعمال کرنے کے اوقات، سسٹم کی استعداد، بیٹریوں کی قیمت، بجلی کے نرخ اور تنصیب کی مجموعی لاگت پر منحصر ہوگی۔


نتیجہ

پاکستان میں 2015 سے رائج پرانا نیٹ میٹرنگ نظام نئے درخواست گزاروں کے لیے ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ نے لے لی ہے۔ اب گرڈ سے خریدی جانے والی بجلی اور گرڈ کو فروخت کی جانے والی بجلی کے نرخ میں بڑا فرق موجود ہے۔

اگر آپ نے 9 فروری 2026 سے پہلے معاہدہ کیا تھا تو آپ کی موجودہ شرائط معاہدہ ختم ہونے تک برقرار رہیں گی۔ نئے صارفین کے لیے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ سسٹم کو گھر یا کاروبار کے دن کے وقت استعمال کے مطابق ڈیزائن کیا جائے، نہ کہ صرف زیادہ بجلی گرڈ کو فروخت کرنے کے مقصد سے۔

اگر بجلی کی بندش کے دوران بیک اَپ بھی ضروری ہے تو ہائبرڈ سسٹم اور بیٹری اسٹوریج پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔

قواعد ضرور بدل گئے ہیں، لیکن سولر کی مالی افادیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ درست سائز، زیادہ خود استعمال اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ سولر آج بھی بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مقابلے میں ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے