اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا ایکشن: ایئرپورٹ پر آف لوڈ ہونے کے بعد لاپتہ ہونیوالی پاکستانی نژاد امریکی خاتون کی بازیابی کے لیے پولیس انکوائری کا حکم، ایف آئی اے اور پولیس سے منگل تک رپورٹ طلب

اسلام آباد: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز سے آف لوڈ کیے جانے کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی 61 سالہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون فرحانہ رفیق کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے تھانہ ایئرپورٹ پولیس کو فوری انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور وفاقی پولیس و وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) سے منگل تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔


کیس کی عدالتی سماعت اور اہم پیش رفت


اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس شاہ رخ ارجمند نے خاتون کی بازیابی کے لیے دائر آئینی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار بیرسٹر محمد علی عباس راجہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ دوسری جانب، وفاقی پولیس کے ایس پی لیگل ساجد چیمہ، ایف آئی اے حکام اور ایس ایچ او تھانہ ایئرپورٹ بھی عدالتی حکم پر پیش ہوئے۔


خاتون کو ایئرپورٹ پر روکنے اور لاپتہ ہونے کی کہانی


درخواست گزار وکیل بیرسٹر محمد علی عباس راجہ نے عدالت کو بتایا کہ 61 سالہ فرحانہ رفیق پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور اسلام آباد میں تنہا رہائش پذیر ہیں، جبکہ ان کے شوہر اور دیگر اہل خانہ بیرون ملک مقیم ہیں۔

خاتون نے 5 نومبر 2026 کو رات تقریباً 3 بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ترک ایئرلائن کی پرواز ٹی کے 711 (TK-711) کے ذریعے استنبول اور وہاں سے واشنگٹن ڈی سی (امریکہ) اپنے شوہر کے پاس روانہ ہونا تھا۔ تاہم، امیگریشن کاؤنٹر پر ایف آئی اے حکام نے انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا اور آف لوڈ کر دیا۔


آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں


درخواست گزار وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ:

1. خاتون کو بیرون ملک سفر سے روکنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی کوئی آفیشل دستاویز یا عدالتی حکم نامہ دکھایا گیا۔

2. خاتون کے خلاف کوئی ایف آئی آر، انکوائری یا قانونی کارروائی زیر التوا نہیں ہے۔

3. پرواز روانہ ہونے کے باوجود حکام نے انہیں کئی گھنٹے تک ایئرپورٹ کی حدود میں ان کی مرضی کے خلاف غیر قانونی حراست میں رکھا اور گھر واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

4. خاتون کو نہ تو گرفتاری کا وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی 24 گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جو کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

5. 5 نومبر کی صبح 11 بجے سے خاتون کا موبائل فون مسلسل بند ہے اور ان کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے یہ شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ انہیں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر کے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔


ایف آئی اے کا موقف اور عدالت کا حکم


سماعت کے دوران ایف آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ خاتون کو سفری پابندی (Travel Restriction) کے باعث آف لوڈ کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھا کہ "آف لوڈ کرنے کے بعد خاتون کو ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا تھا، وہ اس کے بعد کدھر گئیں، ہمیں اس کا کوئی علم نہیں ہے"۔

جسٹس شاہ رخ ارجمند نے ایف آئی اے کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تھانہ ایئرپورٹ پولیس کو فوری طور پر معاملے کی گہرائی سے انکوائری کرنے کی ہدایت جاری کی۔ عدالت نے پولیس اور ایف آئی اے کو حکم دیا کہ خاتون کی موجودہ لوکیشن اور بازیابی سے متعلق تمام اقدامات کی رپورٹ منگل تک عدالت میں جمع کرائی جائے۔ کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔