تاریخ کے دائیں جانب؟ تحریر : راشد حبیب

ایک بیانیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی موجودہ دور میں آمرانہ قوتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی تھی اور مقتدر قوتوں کی بارہا کوششوں کے باوجود عمران خان کسی ڈیل پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے۔ چاہے وہ سیاست سے کنارہ کشی کی پیشکش ہو، بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی آفر ہو یا پاکستان میں ہی بنی گالہ کو سب جیل قرار دے کر وہاں منتقلی کا فارمولا، عمران خان نے ان پیشکشوں کو قبول نہیں کیا۔

ہم نے دیکھا کہ ایک مرتبہ بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی بنیاد پر بنی گالہ منتقل بھی کیا گیا، لیکن انہوں نے اپنے گھر کو سب جیل تسلیم کرنے کے بجائے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی کہ انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے۔

اس فیصلے کے پس پردہ کیا منطق ہوسکتی تھی؟ ایک پہلو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا تھا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی کوئی رعایت قبول نہ کی جائے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ چونکہ عمران خان بھی جیل میں ہیں، اس لیے اڈیالہ جیل میں رہتے ہوئے ان سے ملاقات کے زیادہ مواقع میسر ہوں گے اور سیاسی مشاورت و فیصلوں میں آسانی ہوگی۔ تاہم، دیکھنے میں یہ آیا کہ بشریٰ بی بی کے اس فیصلے کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ تحریکوں، تقریروں اور رہائی یا ملاقات کے مطالبات میں بھی کسی پارٹی رہنما یا کارکن کی زبان پر بشریٰ بی بی کا نام نمایاں طور پر نہیں آیا، جس کے باعث وہ کوئی نمایاں سیاسی قد کاٹھ نہیں بنا سکیں۔

پشاور میں قیام اور عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ

ایک مرتبہ ضمانت پر رہائی کے بعد بشریٰ بی بی نے بنی گالہ کے بجائے پشاور میں قیام کیا۔ اس کا مقصد ایسے صوبے میں رہتے ہوئے، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، پارٹی مشاورت سے عمران خان کی رہائی کے لیے لائحہ عمل اختیار کرنا تھا۔ اس وقت اسے ایک اہم سیاسی قدم تصور کیا گیا۔

پشاور میں قیام کے دوران اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی مشترکہ قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی کیا گیا۔ یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس مارچ نے حکومت اور متعلقہ حلقوں پر دباؤ بڑھایا۔

مارچ کی قیادت کو پیشکش کی گئی کہ وہ اسلام آباد کے باہر پڑاؤ ڈالے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تو عمران خان کی مشروط رہائی کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔

پی ٹی آئی کو اپنی عوامی قوت پر بہت ناز تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے عوام کی نمایاں حمایت حاصل رہی، لیکن اس حمایت کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی پر سوالات اٹھتے رہے۔ صورت حال ایسی تھی جیسے توپ تو موجود ہو، لیکن اسے چلانے کا طریقہ معلوم نہ ہو یا اس کا رخ غلط سمت میں کردیا جائے۔

اگر اسلام آباد کے باہر موجود عوامی قوت کو مؤثر سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کیے جاتے تو ممکن تھا کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیش رفت ہوتی اور وہ قید تنہائی کے بجائے بنی گالہ کی سب جیل سے فعال سیاست کرسکتے۔

لیکن پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی حمایت کو اس انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی جیسے نہتے عوام کی مدد سے طاقتور ریاست کو براہ راست شکست دی جاسکتی ہو۔ ریاست سے کوئی نہتا گروہ نہیں ٹکرا سکتا، بلکہ ریاست کا مقابلہ ریاست ہی کرسکتی ہے۔ دو ریاستوں کے درمیان جنگوں کا اختتام بھی بالآخر مذاکرات پر ہوتا ہے۔

اسلام آباد مارچ اور قیادت کے درمیان اختلافات

حکومت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے بشریٰ بی بی نے پشاور میں خطاب کے دوران کارکنوں سے وعدہ لیا کہ وہ ہر حال میں ڈی چوک پہنچیں گے اور عمران خان کی رہائی کے بعد ہی واپس جائیں گے۔

ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق، اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور حکومت کی پیشکش قبول کرنے پر آمادہ تھے، لیکن سیاست میں نسبتاً نئے تجربے کی حامل بشریٰ بی بی نے یہ پیشکش مسترد کردی اور کارکنوں سے ڈٹ جانے کا وعدہ لیا، چاہے اس کے لیے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

قافلہ آگے بڑھا اور اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی کا انٹری پوائنٹ عبور کرتے ہوئے زیرو پوائنٹ سے ہوتا ہوا سینٹورس مال چوک تک پہنچ گیا، جہاں سے ڈی چوک چند میٹر کے فاصلے پر تھا۔

یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے قافلے کا راستہ روک لیا اور قیادت کو اپنی جان کی حفاظت خود کرنے کا واضح پیغام دیا۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور تمام روشنیاں بند کردی گئی تھیں۔ اس بلیک آؤٹ کے دوران علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کہیں گم ہوگئے، جبکہ کارکن اس امید پر اپنی جگہ ڈٹے رہے کہ قیادت ان کے ساتھ موجود ہے۔

اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، خوف و ہراس پھیلا اور بھگدڑ مچ گئی۔ قیادت سے رابطہ منقطع تھا اور راستہ بھی واضح نہیں تھا۔ لوگ موبائل فون کی روشنی میں اپنی سمت کا تعین کرتے ہوئے سرکاری اور ذاتی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل بھاگ نکلے۔ بعد میں ان گاڑیوں کو واپس لینے کے لیے بھی کوئی سامنے نہیں آیا۔

حکومت کا دعویٰ تھا کہ ہوائی فائرنگ کی گئی، جبکہ پی ٹی آئی نے براہ راست گولیاں چلانے اور متعدد کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں ان ہلاکتوں کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی واضح تفصیل موجود نہیں۔

اگلی صبح پی ٹی آئی قیادت منظر عام پر آئی۔ علی امین گنڈاپور نے ہری پور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جب فائرنگ ہورہی تھی تو وہ مارگلہ کے راستے خیبر پختونخوا میں داخل ہو رہے تھے۔

اس ناکامی کے بعد ایک دوسرے پر الزامات لگائے جانے لگے اور علی امین گنڈاپور اپنا اعتماد کھو بیٹھے۔ بشریٰ بی بی کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، جبکہ عمران خان نے جیل میں رہتے ہوئے خیبر پختونخوا کی قیادت تبدیل کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ نامزد کردیا۔

سہیل آفریدی کی قیادت اور تبدیل نہ ہونے والی حکمت عملی

سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے بھی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کردیں، لیکن سیاسی حکمت عملی میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ابتدا میں سہیل آفریدی بھی کارکنوں کو لے کر اڈیالہ جیل کی جانب پیش قدمی کرتے رہے، مگر انہیں داہگل ناکے سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ ملی۔

وقت گزرتا رہا اور دعوے کیے جاتے رہے۔ بعد ازاں ایک حتمی تحریک کا اعلان کیا گیا، لیکن مقررہ تاریخ سے قبل ہی اسے ایک ماہ کے لیے مؤخر کردیا گیا۔ اس دوران تحریک کے لیے عوامی جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان نے خاصی توجہ حاصل کی اور وفاقی حکومت نے ایک ہفتہ پہلے ہی راستے بند کرنا شروع کردیے۔ عوام اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس حکمت عملی پر تنقید کی گئی کہ پی ٹی آئی کی جانب سے تحریک کے اعلان کے جواب میں پورے ملک میں راستے بند کرنا دانشمندانہ اقدام نہیں۔

بعد ازاں ریاست نے حکمت عملی تبدیل کی اور پی ٹی آئی کی سنجیدہ قیادت کو واضح پیغام دیا کہ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آیا جائے، بصورت دیگر خیبر پختونخوا کی سرحد عبور کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پیغام کے بعد سینئر قیادت کے بعض ارکان نے مارچ کی حمایت سے دستبرداری اختیار کرنے کا اعلان کیا اور کارکنوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ مذاکرات ہوئے، لیکن مارچ ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔

اس دوران یہ حکمت عملی بھی زیر بحث رہی کہ اگر حکومت مزید ایک ہفتے تک راستے بند رکھتی ہے تو مارچ کی تاریخ مزید آگے بڑھا دی جائے گی۔ تاہم، ریاست کی جانب سے حکمت عملی میں تبدیلی کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے۔

مارچ شروع ہوا تو اس میں پہلے جیسا جوش و خروش اور دباؤ دکھائی نہیں دیا۔ احتجاج کو خیبر پختونخوا کی سرحدوں تک محدود رکھا گیا، جس سے کارکنوں اور حامیوں میں مزید مایوسی پھیلی۔

خیبر پختونخوا میں گورننس اور سیاسی محاذ آرائی

وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے، گورننس بہتر بنانے، عوام کی ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مشورہ دیا اور ان معاملات میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ تاہم، سہیل آفریدی کا بنیادی ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہی رہا۔

ریاست نے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے عدم تعاون کو جواز بناتے ہوئے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ سمیت صوبائی قیادت کو حراست میں لے لیا گیا۔

توقع کی جارہی تھی کہ اس اقدام کے خلاف بھرپور عوامی مزاحمت سامنے آئے گی، لیکن اس کے برعکس احتجاج کے لیے بڑی تعداد میں لوگ باہر نہیں نکلے۔ بعض اضلاع میں حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کرنے اور دھرنوں و احتجاج کی سیاست سے نجات ملنے پر خوشی کے اظہار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اس طرح پی ٹی آئی کے لیے عوامی قوت کی دستیابی سے متعلق جو تصور قائم تھا، اسے بھی دھچکا پہنچا۔ خیبر پختونخوا، جسے پی ٹی آئی کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی پارٹی کو ایک نئے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

اب صوبے میں وفاقی حکومت کے کنٹرول اور صوبائی قیادت کی حراست کے تناظر میں سیاسی صورت حال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بشریٰ بی بی کے دور میں اختیار کی گئی حکمت عملی سے لے کر سہیل آفریدی کی قیادت تک، پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی سیاسی تحریک کو کسی فیصلہ کن نتیجے تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ بار بار قیادت کی تبدیلی کے باوجود مذاکرات، احتجاج اور عوامی قوت کے استعمال کے حوالے سے بنیادی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آئی۔

پی ٹی آئی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ اقدامات جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں، جبکہ ناقدین اسے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ تاریخ کے دائیں جانب کون کھڑا تھا، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔