اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین)

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر بھی خواتین پر تشدد، محض ایک خاندان کا نجی معاملہ نہیں بلکہ ریاست کی آئینی ذمہ داری پر حرف آنے کا باعث بنتاہے، جسٹس عائشہ اے ملک کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق باورچی،اپیل گزار جواد عباسی کی جبری ریٹائرمنٹ کے خلاف دائر اپیل خارج کر دی ہے ، 10 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے قلمبند کیا ہے ، ملزم جواد عباسی کے خلاف مئی 2022 میں بیوی کو آگ لگا کر اسے خود کشی کا رنگ دینے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا،فوجداری کارروائی کے ساتھ ساتھ محکمانہ انکوائری میں بھی یہ الزام ثابت ہوجانے پر اسے 14 جون 2024 کو جبری ریٹائر کیا گیا، جسے فیڈرل سروس ٹربیونل اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا،بعد ازاں فوجداری عدالت سے شک کا فائدہ لیکر بری ہونے پر اس نے جبری ریٹائرمنٹ کے حکمنامہ کو چیلنج کیا تھا ،تاہم سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں ملزم کے اس موقف کو سختی سے مسترد کر دیاہے کہ یہ اس کا گھریلو معاملہ تھا،عدالت نے واضح کیاہے کہ آئین کی متعددشقوں کے تحت عورت کو گھر کے اندر بھی وہی تحفظ حاصل ہے جو عام جگہوں پر ملتا ہے، فیصلہ کے مطابق گھر میں بیوی پر تشدد کرنے اور اس کی عزت و حرمت مجروح کرنے والا شخص سول سروس کے اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتا ہے ،عدالت نے قراردیاہے کہ ایک سرکاری ملازم کی بدسلوکی صرف دفتر کے اوقات تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ نجی زندگی میں کیا گیا جرم بھی اس کے ادارہ کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتا ہے،عدالت نے واضح کیا ہے کہ فوجداری عدالت سے شک کا فائدہ ملنا محکمانہ بریت کا باعث نہیں بنتا اور اسے "حسنِ اخلاق کا سرٹیفکیٹ" قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ،عدالت نے قرار دیا ہے کہ عورت پر تشدد کر کیاس پر خودکشی کا الزام ڈالنا دوہرے جرم اور منافقت کے مترادف ہے، ایسا عمل کرنے والا شخص نہ تو اچھا شوہر بن سکتا ہے اور نہ ہی اسے 'جینٹلمین' کہا جا سکتا ہے،انٹیلی جنس بیورو جیسے حساس ادارہ نے تمام قانونی اور فطری انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے اسے ملازمت سے فارغ کیا ہے ۔