کام کی جگہ پر جنسی پراسانی کاُجب قانون بنا تو ایک خیال یہ تھا کہ یہ قانون مردوں کے خلاف بنا ہے اور اس سے ورک پلیس پر مردوں کے لئے کام کرنا مشکل ہوجائے گا کوئی بھی خاتون کسی بھی مرد ہراُسانی کو جھوٹا دعویٰ بھئی کردے گی تو مرد کوُنوکری سے محروم ہونے پڑے اوُر ایسے الزام کے ثابت دوہرا نقصان یہ ہوگا کہ ایک تو نوکری جائے گی دوسرے گھر اور معاشرے میں ذلت وُرسوائی کا سامنا کرناپڑے گا مگر دیکھا یہ گیا اس قانون کے مرد اور خواتین دونوں کوُتحفظ فراہم کیا ابتدا میں اگرچہ کچھ مردوں کوُنوکری سے ہاتھ دھونے پڑے جس سے باقی کے مرد حضرات تو محتاط ہوگئے مگر واقعی پر کچھ جنسی ہراسانی کی شکایات خواتین کی جانب سے بلک میلنگ کے لئے بھی کی گئیں تاہم فوسپا نے شکایات کسی تعصب کے بغیر نمٹایا اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کے نتیجے میں ملزم کو بے گناہ پایا تو انہیں باعزت بری بھی کیا اور اور جھوٹی شکایت درج کروانے پر شکائت کنندہ خاتون کے خلاف کرروائی بھی ہوئی جس کی تازہ مثال ایک ہونیورسٹی ایک خاتون افسر کے اپنے کو لیگ کو بلیک میل کرنے پر یونیورسٹی کی محکمانہ کارروائی کےُنتیجے میں ہونے والی سزاُکو۔ جزوی طور پرُبرقرار رکھتے ہوئے ملزم کو باُعزت بری بھی کیا گیا
ملاحظہ فرمائے تفصیلی فیصلہ
سیلفی کی ضد ، دھمکیاں اور مبینہ بلیک میلنگ
خاتون افسر پہ ہراسیت ثابت ، وفاقی محتسب عہدہ گھٹانے کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے سرکاری یونیورسٹی کے ایک ہراسیت کیس کی اپیل میں خاتون کے خلاف سزا برقرار رکھی ہے جس میں ایک اعلیٰ عہدے دار خاتون افسر پر یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ویڈیوز جاری کرنے، جھوٹی شکایت درج کرانے، اور میڈیا میں بے نقاب کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام ثابت ہوا اور وہ بھی محض اس لیے کہ انہیں من پسند عہدے پر تقرری نہیں مل رہی تھی۔
شکایت کنندہ، جو یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں، کے دفتر میں ملزمہ، جو خود ایک اعلیٰ عہدے دار افسر ہیں، اچانک داخل ہوئیں اور ان کے ساتھ سیلفی بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ بات یہیں نہیں رکی ، جب شکایت کنندہ نے بتایا کہ ایک اہم عہدے کی جاری بھرتی پر ان کا کوئی اختیار نہیں، تو ملزمہ کا رویہ فوراً بدل گیا۔ الزام ہے کہ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انہیں من پسند عہدہ نہ ملا تو وہ شکایت کنندہ کی ویڈیوز جاری کر دیں گی، ان کے خلاف جھوٹی ہراسیت کی شکایت درج کرا دیں گی، اور اپنے صحافی شوہر کے ذریعے مبینہ بے ضابطگیاں میڈیا میں بھی لے آئیں گی۔
شکایت کنندہ نے احتیاطاً ایک اہلکار کو کمرے میں موجود رکھا ہوا تھا، مگر ملزمہ بار بار اسے باہر بھیجنے پر اصرار کرتی رہیں۔ خطرہ بھانپتے ہوئے شکایت کنندہ نے چپکے سے گفتگو ریکارڈ کر لی اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر کے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر جا پہنچے ، مگر ملزمہ وہاں بھی ان کے پیچھے پہنچ گئیں۔ جب ریکارڈنگ سنائی گئی تو ملزمہ نے اپنی غلطی مان لی، ندامت ظاہر کی اور دو تحریری معذرت نامے بھی جمع کرائے۔
یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے انہیں مجرم قرار دے کر سخت سزا سنائی: عہدے میں کمی، تین سال کے لیے ترقی پر پابندی، اور زندگی بھر کسی بھی انتظامی عہدے پر تقرری سے محرومی۔ ملزمہ نے اسی سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔
اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے فورم نے واضح کیا کہ ہراسیت کا قانون صرف "جنسی" نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں ، دھمکیوں، دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
فورم نے دلچسپ بات یہ بھی نوٹ کی: اگر شکایت کنندہ گفتگو ریکارڈ نہ کرتے، اور الٹا ملزمہ ان کے خلاف شکایت کر دیتیں، تو غالب امکان تھا کہ سچ سامنے ہی نہ آتا اور شکایت کنندہ کو ناحق سزا بھگتنی پڑتی۔
بہرحال، فورم نے سزا میں ایک ترمیم بھی کی۔ کہا گیا کہ ملزمہ کی معذرتوں کو کمیٹی نے نظرانداز کیا، اور "عمر بھر کی پابندیاں" قانون میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ چنانچہ ترقی اور تقرری پر تاحیات پابندیاں ختم کر دی گئیں، جبکہ عہدہ کم کر کے ڈپٹی رجسٹرار کرنے کی بنیادی سزا برقرار رکھی گئی۔
Lahore 28°C
Karachi 28°C


