**اسلام آباد:** پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور موجودہ صوبوں کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے ایک اہم تجویز سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کے فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے الیکشن کمیشن کے ذریعے ریفرنڈم کرانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت ریفرنڈم کا نتیجہ مثبت آنے کی صورت میں پنجاب اور بلوچستان کو چار، چار جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا کو دو، دو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ اس حوالے سے ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی تھی کہ ملک کے ہر ڈویژن کو الگ صوبے کا درجہ دے دیا جائے۔

تاہم نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ملک میں سیاسی اور عوامی سطح پر تاحال مکمل اتفاقِ رائے دکھائی نہیں دیتا۔ بعض حلقوں کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کی مخالفت بھی سامنے آ رہی ہے، جبکہ ناقدین اس مجوزہ ریفرنڈم کے طریقہ کار اور مقصد پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی پہلے سے طے شدہ فیصلے کو عوامی ریفرنڈم کے ذریعے قانونی یا سیاسی جواز فراہم کرنا مقصود ہو تو پاکستان میں ریفرنڈم کی تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں بھی ریفرنڈم کرائے جا چکے ہیں، جن پر سیاسی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے مختلف نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ مجوزہ نظام اور ریفرنڈم کو ماضی کے ان تجربات سے مختلف ثابت کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار، آزادانہ نگرانی اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔

ذرائع کے مطابق صوبوں کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے فیصلہ اگرچہ حتمی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ریفرنڈم کی تاریخ طے کرنا ایک وقت طلب مرحلہ ہوگا۔ اس سے قبل عوامی رائے ہموار کرنے اور مجوزہ انتظامی تبدیلی کے حق میں ماحول بنانے کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
نئے صوبوں کی تقسیم اور ریفرنڈم سے متعلق مذکورہ معلومات کو فی الحال مجوزہ منصوبے/ذرائع سے منسوب کیا جا رہا ہے؛ حتمی سرکاری اعلان یا الیکشن کمیشن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سامنے آنے تک اسے حتمی سرکاری فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔