آئینِ پاکستان کا ایک سابقہ آرٹیکل جو آمروں کی منشا اور اشارۂ ابرو پر حکومتوں کو برطرف کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، کہنے کو تو آئین سے حذف کر دیا گیا ہے لیکن یہ آرٹیکل ففٹی ایٹ ٹو بی 58(2)(b) آج بھی کسی نہ کسی صورت زندہ ہے، یعنی طاقت کے سرچشمہ (عوام نہیں) بلکہ فردِ واحد جب طیش میں آ جائے تو عوام کے ووٹوں اور ایوان کی اکثریت سے منتخب وزیر یا وزیراعلیٰ کو با آسانی وزیراعظم آفس اور ہاؤس سے بے ہاؤس کر دیتی ہے۔
ففٹی ایٹ ٹو بی کے زمانے میں صدرِ مملکت کے ذریعے یہ اختیار استعمال کروایا جاتا تھا۔ یہ شق آئین میں شامل ایک آمر ضیاء الحق نے کی تھی، بطور صدرِ مملکت استعمال بھی خود ہی کر ڈالی اور اس کا استعمال بھی تاریخ کے شریف اور دیانت دار مگر دبنگ ترین وزیراعظم محمد خان جونیجو کے خلاف ہوا، جن کا واحد ناقابلِ معافی جرم یہ تھا کہ انہوں نے راولپنڈی میں فیض آباد کے قریب مری روڈ پر واقع ایک خفیہ اسلحہ ڈپو المعروف اوجڑی کیمپ میں ہونے والے اس بلاسٹ کی تحقیقات کا حکم دے ڈالا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوئے۔ دھماکے کے بعد افغان جنگ کے بچے ہوئے میزائل جو اس ڈپو میں اتنے خفیہ رکھے گئے تھے کہ رکھنے والوں کے علاوہ کسی کو ان کا علم نہیں تھا، شہریوں کے گھروں، دفتروں، سروں اور گاڑیوں پر ایسے برسنے لگے جیسے بارش کے قطرے۔ یہاں بارش کے قطروں سے مراد اتنے بے ضرر نہیں بلکہ اتنی بڑی تعداد ہے۔ خیر یہ ایک الگ قصہ ہے جس کی تفصیل کسی اور آرٹیکل میں بیان کی جائے گی، تاہم اس سنگین اور پراسرار سانحے کی تحقیقات ہونی چاہیے تھی، جس کا اس وقت کے وزیراعظم نے اعلان بھی کر دیا تھا، لیکن یہ تحقیقات منظور نہیں تھیں جن کا یہ وطن ہے، چنانچہ وزیراعظم محمد خان جونیجو جب ایک غیر ملکی دورے پر روانہ ہوئے تو ان کی کمر میں ففٹی ایٹ ٹو بی کا وار کر دیا گیا۔ اور وہ محمد خان جونیجو جو جہاز میں سوار ہوتے وقت وزیراعظم پاکستان تھے، کا میزبان ملک میں استقبال بطور سابق وزیراعظم پاکستان ہوا۔ اس آئینی شق کے اطلاق کے لیے وزیراعظم محمد خان جونیجو پر نااہلی اور ناکامی جیسے الزامات عائد کیے گئے، سوائے اس جرم کے جو ان سے سرزد ہوا تھا، یعنی سانحہ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات کا اعلان۔
اس آئینی شق کا استعمال بعد میں آنے والی نواز شریف اور بے نظیر کی حکومتوں پر بھی ڈیڑھ اور ڈھائی سال کے قلیل دورانیوں میں ایسے ہی ہوا جیسے کوئی سخت گیر باپ اپنے بیٹے پر جوتے کا استعمال کرتا ہے۔ اس شق کو استعمال کروانے والوں کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ بے نظیر کے خلاف یہ اختیار ان کی اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق احمد خان لغاری سے کروا دیا گیا، جو پارٹی سے سب وفادار اور معتبر رکن تصور ہوتے تھے، اور محترمہ بے نظیر بھٹو فاروق لغاری کو فارغ لغاری کا خطاب دینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ کر سکیں کہ ابھی اخلاقیات اور رواداری باقی تھی۔ آج کی طرح گالم گلوچ والے رویے نہیں تھے، بس اختلافِ رائے ہوا کرتا تھا اور وہ بھی قانون کے دائرے میں۔ اس قانون کا شکار بننے والوں نے اس قانون کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور پارلیمانی اکثریت کے ذریعے آئین میں ترمیم کر کے یہ شق ختم کر دی گئی اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ اب ان کی حکومتوں کا دورانیہ آئین میں دی گئی پانچ سال کی مدت کے لیے محفوظ ہو گیا ہے۔
مگر آئین کے خالق آئین میں موجود وہ چھید بند کرنا بھول گئے جن میں چھپے سانپوں نے انہیں مستقبل میں بھی ڈسنا تھا۔ ایسا ایک سوراخ صادق اور امین، آئین کا آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ تھا، یعنی وزیراعظم کی اہلیت کے لیے لازمی تھا کہ وہ جھوٹ نہ بولتا ہو، سچ نہ چھپائے اور دیانت دار ہو۔ لہٰذا وزیراعظم نواز شریف جو اپنے بیٹے کی کمپنی میں ڈائریکٹر تھے لیکن بیٹے سے تنخواہ نہیں لیتے تھے، اس جرم پر نااہل قرار دے دیے گئے کہ انہوں نے وہ رقم جو وہ اپنے بیٹے سے نہیں لیتے تھے، اپنے انتخابی گوشوارے میں ظاہر نہ کر کے آئین کے آرٹیکل کی خلاف ورزی کی۔ یہ تاریخ ساز اور فلسفیانہ آئینی فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ایک فل بینچ نے صادر فرما کر نواز شریف کو جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد سے لاہور روانہ کر دیا تھا اور اپنے پورے سفر کے دوران نواز شریف یہی سوال کرتے ہوئے گئے کہ مجھے کیوں نکالا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آرٹیکل باسٹھ، تریسٹھ کی تو کوئی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن وہ توہین کے سوراخ سے ڈسے گئے۔ وہ عدالت کے اس حکم پر عمل نہیں کر سکے کہ وہ بطور وزیراعظم سوئس حکومت کو خط لکھ کر یہ بتائیں کہ ان کے ملک کا حاضر سروس صدر کرپٹ ہے۔ عدالت کے حکم عدولی پر انہیں طلب کر کے تا برخاستِ عدالت قید کی سزا سنائی گئی اور سزا سناتے ہی 30 سیکنڈ میں عدالت برخاست کر کے سزا پر عمل درآمد بھی کر دیا گیا، یعنی وزیراعظم سزا یافتہ ہو کر نااہل ہو گئے۔
پھر اقتدار عوام کے چہیتے اور انگلی پکڑا کر لانے والوں کے لاڈلے وزیراعظم عمران خان کو، جو نہ صرف صادق اور امین بھی تھے اور عدالت کی حکم عدولی بھی نہیں کرتے تھے، لیکن اکڑو تھے۔ ان کی اکڑ انہی کے اتحادیوں کو توڑ کر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکال دی گئی۔ وہ وزیراعظم ہاؤس سے نکال کر جیل پہنچ گئے لیکن ان کی اکڑ بدستور برقرار ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آئین میں کوئی سوراخ باقی نہیں بچا۔ آئین کی شق 232 اور 234 نامی دو اور سوراخ حال ہی میں دریافت ہوئے، لیکن ان کے استعمال کے لیے صوبے میں دہشت گردی کی سیڑھی استعمال کرنی پڑی، جو ہمیں کسی سے مانگنی نہیں پڑی، ہمارے پاس پہلے سے موجود تھی۔ بس جناب آرٹیکل دو تھے، عمل دہرا ہوا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اقتدار سے ہی نہیں نکلے بلکہ منظر سے ہی غائب ہو گئے اور اب ان کی پارٹی اپنے بانی رہنما کی رہائی بھول کر اپنے سابق وزیراعلیٰ کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
Lahore 31°C
Islamabad 26°C


