اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت انتہائی اہم اجلاس میں وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا، مولانا فضل الرحمن سے ہنگامی رابطہ کر لیا گیا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت طلال چودھری، امیر مقام، سید عمران شاہ، حنیف عباسی، معین وٹو، پرویز خٹک،احد چیمہ، مصطفٰی کمال اور ہارون اختر شریک ہیں
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے خیبر پختنوخوا میں دہشت گردی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دانستہ لاتعلقی تشویشناک ہے۔
کابینہ میں یہ تجویز دی گئی کہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے مولانا فضل الرحمن کے ذریعے آخری کوشش کی جائے۔
اجلاس کے دوران ہی نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کا ساتھ دے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق بڑے اور اہم آئینی اور انتظامی فیصلے متوقع ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ، رپورٹس پیش ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق دو برس کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا، دہشت گردی میں مسلسل اضافہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کیلئے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا
Lahore 20°C
Islamabad 20°C


