خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ گملے میں اگائے بوٹے کو جڑ سمیت نکالنے کا فیصلہ ہے۔ جب پہلی مرتبہ مرشد کو خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت دی گئی تو پالنے میں بچے کے پاؤں نظر آ گئے تھے۔ لیڈر ہے نہ اصلاح کار، محض فراڈ ہے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان میثاقِ جمہوریت کا خوف اس قدر توانا تھا کہ اس فراڈ پر داؤ لگا دیا گیا۔ ففتھ جنریشن وار کے نام پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کر دیے گئے۔ ایسی سیاسی انجینئرنگ کی گئی کہ دونوں بڑی جماعتوں کے تگڑے الیکٹیبلز کو نکیل ڈال کر اس کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔

پالتو ججوں اور ریاستی اداروں کی اس قدر معاونت دی گئی کہ ایجنسیوں کے سابق فخر نواز شریف کو بھی نہیں ملی۔ بدلے میں کیا ملا ؟

جس قدر بدنامی ففتھ جنریشن وار پلاٹون کے بھگوڑوں نے کی، بھارتی اربوں ڈالر کا بجٹ خرچ کرکے بھی اتنی بدنامی نہ کر پاتے۔ جنہوں نے خیبرپختونخوا کی پہلی حکومت کا حال دیکھنے کے باوجود اس پر داؤ لگایا، وہ اعلیٰ نسل کے ڈفر تھے۔ 9 مئی کے باوجود اسے داماد بنا کر رکھا گیا۔

خیبرپختونخوا کی حکومت بھی دے دی گئی۔ سارے ملک میں جس فارم 47 سے مرشد کا ووٹ بینک غائب کیا گیا، اسی فارم 47 سے خیبرپختونخوا میں مولانا، عوامی نیشنل پارٹی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ووٹ غائب کرکے اسے اہم ترین صوبے میں کامیاب کروا دیا گیا۔

اعلیٰ نسل کا احمق پہلی صوبائی حکومت میں ثابت ہو گیا تھا، لیکن بعد میں بھی اپنی حماقت کی توثیق کرتا رہا۔

چوہدری پرویز الٰہی سمجھاتا رہا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منت کرتا رہا کہ صوبائی حکومتیں مت توڑو، لیکن وہ احمق ہوا کے گھوڑے سے اترا ہی نہیں۔ اسے یقین تھا کہ پالتو جج اور جنرل فیض کے ہمنوا الیکشن کروا دیں گے اور پھر وہ جیت جائے گا۔ اسمبلیاں توڑ دیں، اپنے ہاتھ پاؤں خود ہی توڑ لیے۔ نہ الیکشن ملے، نہ جیت۔

جنرل فیض بھی کڑکی میں پھنس گئے۔ پالتو جج بھی اپنے ٹھکانوں کو چلے گئے۔

سیاست دان ہوتا تو معافی مانگ لیتا۔ جنہوں نے احسان کیا تھا، انہیں دشمن نہ بناتا۔ وہ کبھی اس اثاثے کو ضائع نہ کرتے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سامنے یہ محنت سے بنایا گیا اثاثہ تھا۔

اب کہانی ختم ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی جیسی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت اس ملک میں نہ پہلے آئی، نہ کبھی آئے گی۔ یہ جماعت بھی ایمرجنسی کی حمایت کرکے عوام کی سیاست چھوڑ گئی ہے۔

پی ٹی آئی تو جھوٹ، دھوکے اور فراڈ پر قائم عمارت تھی، لیکن اس کے پاس نوجوان نسل پر مشتمل بہت بڑا ووٹ بینک تھا۔ یہ ووٹ بینک بہت بڑی طاقت تھا۔ اسی ووٹ بینک کے ذریعے پیپلز پارٹی اور مولانا سے جھپیاں ڈالی جا سکتی تھیں۔ یہ ووٹ بینک اسے بچا سکتا تھا، تحفظ دے سکتا تھا اور مستقبل میں وزارتِ عظمیٰ بھی دلا سکتا تھا۔

مالکوں سے سینگ لڑانے تھے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل جاتا۔ کوئی نیا میثاقِ جمہوریت کر لیتا، کوئی نئی آئینی ترامیم کر لیتا۔ ریاست کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی ملکیت جمہوریت کو مل جاتی۔

لڑ کر دیکھ لیا، اب چھٹی۔

پی ٹی آئی اب مستقبل کی ایم کیو ایم ہے، پنجاب کی پیپلز پارٹی ہے، خیبرپختونخوا کی اے این پی ہے، موجودہ دور کی جماعتِ اسلامی ہے اور بس۔

مرشد گیا تو پارٹی بھی گئی، کیونکہ اس جماعت کی کوئی نظریاتی اساس نہیں۔ یہ مالکوں نے بنائی تھی اور مالکوں نے ہی ختم کر دی ہے۔