آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ پٹرول پمپ مالکان کے مارجنز میں اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے نفاذ کے معاملے پر مذاکرات کیے گئے، تاہم یہ مذاکرات کسی مثبت نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے صورتحال پر مشاورت اور منصوبہ بندی جاری تھی اور پٹرول پمپ مالکان کو ممکنہ احتجاج کے لیے پہلے ہی ذہنی طور پر تیار کیا جا چکا تھا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان اپنے مطالبات کے حق میں متحد ہو کر پُرامن احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

اعلان کے مطابق 22 جولائی 2026 کی رات 12 بجے (23 جولائی کے آغاز سے) ملک بھر کے تمام پٹرول پمپ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک حکومت پٹرول پمپ مالکان کے مطالبات پر مثبت اور قابلِ قبول فیصلہ نہیں کرتی۔

بیان میں تمام پٹرول پمپ مالکان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر مکمل طور پر پٹرول پمپ بند رکھیں اور ایسوسی ایشن کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔


عوام کو کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے؟

اگر اعلان کے مطابق ملک بھر میں پٹرول پمپ بند رہے تو شہریوں کو ایندھن کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ سفر پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں شہریوں کی جانب سے ہڑتال سے قبل پٹرول پمپوں پر غیر معمولی رش بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت یا وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے اس اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہڑتال سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان مزید مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تاکہ ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے بچائی جا سکے۔