اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر اپنا مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مجوزہ کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے اپوزیشن وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر اپوزیشن رہنماؤں سے ملنے گئی تھیں۔ ملاقات میں اپوزیشن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تشکیل پانے والی انتخابی اصلاحات کی کمیٹیوں میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنے تحفظات کھل کر سامنے رکھنے چاہییں۔ ان کے مطابق پارلیمانی کمیٹیاں قانون سازی اور پارلیمانی امور میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے ان میں شرکت کے بغیر تحفظات کے ازالے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اپوزیشن ان قائمہ کمیٹیوں میں بھی واپس آئے جن کا اس نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے مختلف ادوار میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
شیری رحمان کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے ان کی تجاویز کو خیرسگالی کے جذبے کے ساتھ سنا اور مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن ان تجاویز پر مثبت ردعمل دے گی۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی میں 30 ارکان شامل ہوں گے، طارق فضل چوہدری
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جا چکی ہے اور اسپیکر قومی اسمبلی جلد اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی میں کمیٹی کی تشکیل سے متعلق تحریک پیش کیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف نے مخالفت نہیں کی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مجوزہ کمیٹی میں مجموعی طور پر 30 ارکان شامل ہوں گے، جن میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان کی نمائندگی ہوگی۔ کمیٹی میں مختلف جماعتوں کو ان کی پارلیمانی عددی حیثیت کے مطابق نشستیں دی جائیں گی۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد انتخابی نظام کو بہتر بنانا، شفافیت میں اضافہ کرنا اور پارلیمانی مشاورت کے ذریعے اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مثبت اور قابلِ عمل تجاویز کو اہمیت دینے کی کوشش کرے گی، تاکہ ایسا انتخابی نظام تشکیل دیا جا سکے جس پر عوام کا اعتماد مضبوط ہو اور جمہوری اقدار کو فروغ ملے۔
وفاقی وزیر کے مطابق انتخابی اصلاحات کسی ایک سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ قومی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی مشاورت اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اس عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔
Lahore 23°C
Karachi 27°C


