اسلام آباد : علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دو تہائی اکثریت سے قائم حکومت کو ان اقدامات کے ذریعے فارغ کر دیا گیا ، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے امن قائم ہو سکا ؟
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے اور ایمرجنسی سمیت مختلف اقدامات کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ان اقدامات سے امن قائم نہیں ہو سکا تو کے پی کے میں بھی یہی راستہ اختیار کرنے کا کیا جواز ہے؟
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو تنہا نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری طرزِ حکومت ہو یا بادشاہت، وہ کسی بھی بے گناہ کے قتل میں شریک نہیں ہو سکتے، چاہے اس کے لیے انہیں پھانسی پر ہی کیوں نہ لٹکا دیا جائے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے 11 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ اقدام پاکستان کے آئین پر حملہ ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور صدرآصف علی زرداری کی جانب سے گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کے موقع پر سامنے آنے والی تصویر پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کو مسکراتے دیکھ کر دکھ ہوا، کیونکہ ان کے بقول یہ مسکراہٹ پاکستان کے عوام کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
Lahore 20°C
Islamabad 20°C


