اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مذاکرات کی دعوت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض دعوؤں اور بے نتیجہ مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کی حکومت بھی ختم ہوگئی، اس لیے ضروری ہے کہ بات چیت کے نتائج سامنے آئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی حکومتی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی تھی، لیکن بعد میں یہ عمل کس کے کہنے پر ختم کیا گیا، اس کا جواب دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات کے دوران ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت ختم کردی جائے۔ فریقین کو اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کس نے کیا اور اس کی وجہ کیا تھی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہر فورم پر ایسے اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں گورنر راج کا نفاذ غیرقانونی اور ناجائز اقدام ہے اور حالات ایسے نہیں تھے کہ اس نوعیت کا فیصلہ کیا جاتا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ صوبے کی پوری بیوروکریسی تبدیل کردی گئی ہے، جبکہ اب ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات جمہوری اصولوں کے منافی ہیں اور انہیں بند ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے پارٹی رہنماؤں سے رابطوں کے حوالے سے بتایا کہ 11 اکتوبر کے بعد سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
بیرسٹر گوہر کے بیان میں مذاکراتی عمل، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر پی ٹی آئی کے تحفظات نمایاں رہے۔
Lahore 23°C
Karachi 30°C


