اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی جماعت پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ الزام فوری واپس لے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا ہے، جسے میں مسترد کرتا ہوں۔ فیصلہ کر لیں کہ کیا ہم دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں؟
وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں زخم دیا ہے، ہم ایسے بیانات پر لعنت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بیان کے بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری ہے اور ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اپنے اقدامات سے وفاق کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ملاقات کے ڈر سے پوری حکومت ختم کر دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر ہم دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں تو ہمیں پھانسی دے دو، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ سب کچھ ہو سکتے ہیں لیکن دہشت گردی کی پشت پناہی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں اس ملک کا حصہ نہیں سمجھا جاتا تو آج ہی بتا دیا جائے۔ ان کے بقول، آنے والی نسلیں حکمرانوں کو معافی مانگنے پر مجبور کریں گی۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو، یہ الزام واپس لے۔ انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ، گورنر راج اور فوج بلانے کے فیصلے کو بھی مسترد کر دیا۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ ایسا پاکستان بنائیں گے جس میں ان کے بقول، مخالفین کا احتساب کیا جائے گا۔
Lahore 23°C
Karachi 30°C


