واشنگٹن: خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو جان سے لاحق فوری خطرے کے پیش نظر امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے 15 اکتوبر کو ’’ڈیوٹی ٹو وارن‘‘ سکیورٹی انتباہ جاری کیا ہے۔ پنوں سکھ فار جسٹس (SFJ) کے جنرل کونسل بھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، ایف بی آئی کی جانب سے جاری انتباہ میں بالخصوص امریکہ سے کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن سفر کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے، جہاں 18 اکتوبر کو خالصتان ریفرنڈم منعقد ہونا ہے۔

گرپتونت سنگھ پنوں کو اس سے قبل کینیڈین پولیس بھی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کر چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، انہیں اونٹاریو میں واقع ان کی رہائش گاہ کو ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا تھا۔ پنوں امریکہ اور کینیڈا کی دہری شہریت رکھتے ہیں۔

کینیڈا کے بھارت سے بڑھتے تعلقات پر پنوں کے سوالات

سکیورٹی انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گرپتونت سنگھ پنوں نے کینیڈا کی جانب سے بھارت کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پنوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف کینیڈین پولیس خالصتان ریفرنڈم کے منتظمین کو ان کی جان اور گھروں کو لاحق خطرات سے خبردار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کینیڈین حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دے رہی ہے۔

انہوں نے کینیڈا سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا بھارت کی حکومت نے کینیڈا میں مبینہ قاتلانہ کارروائیاں بند کر دی ہیں یا کینیڈین حکومت نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔

’’پنجاب کی آزادی یا موت، درمیان میں کچھ نہیں‘‘

گرپتونت سنگھ پنوں نے سکیورٹی انتباہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’پنجاب کی آزادی یا موت، درمیان میں کچھ نہیں۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے بھارتی حکومت انہیں قتل کرنے میں کامیاب ہو جائے اور وہ خالصتان کو وجود میں آتا نہ دیکھ سکیں، تاہم ان کا عزم ہے کہ سکھوں کی اگلی نسل ایک آزاد پنجاب میں زندگی گزارے گی۔

پنوں کے مطابق، 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں ہونے والا ریفرنڈم پنجاب کی آزادی کے لیے پُرامن جدوجہد میں ایک اور باب کا اضافہ ہوگا۔

18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا اعلان

سکھ فار جسٹس (SFJ) نے اعلان کیا ہے کہ منتظمین کو مسلسل دھمکیوں کے باوجود خالصتان ریفرنڈم 18 اکتوبر کو ایڈمنٹن میں طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔

یہ ایک غیر پابند عوامی رائے شماری ہے، جس میں شریک سکھ ووٹرز بھارت سے پنجاب کی آزادی اور خالصتان کے قیام کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق، ریفرنڈم کا مقصد سکھ عوام کو اپنے سیاسی مستقبل اور حقِ خودارادیت کے بارے میں رائے دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اس رائے شماری کے نتائج قانونی طور پر بھارت سے پنجاب کی علیحدگی کا فیصلہ نہیں ہوں گے۔