اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ، جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کی منظوری دے دی ہے، جبکہ سمری صدرِ مملکت کو بھجوائے جانے اور ان کی جانب سے دستخط کیے گئے

وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتِ حال اور صوبے میں دہشت گردی کے واقعات سے متعلق بریفنگ دی۔

وزیراعظم نے اجلاس میں بتایا کہ خیبر پختونخوا 2010 سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے صوبے کو تقریباً آٹھ ارب روپے فراہم کیے گئے۔ ان کے مطابق ، گزشتہ تین برس کے دوران پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر متعدد حملے ہوئے، جن کی روک تھام میں صوبائی حکومت مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔

وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق انتظامی امور چلانے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت نے آئینی اقدامات پر غور کیا۔

بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سمری ایوانِ صدر بھجوائی گئی، جس پر صدرِ مملکت کے دستخط کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ اثرات

گورنر راج کے نفاذ کی صورت میں صوبائی انتظامیہ کے اختیارات اور وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی آئے گی۔ تاہم، انتظامی اختیارات کی اصل نوعیت کا تعین متعلقہ آئینی حکم اور سرکاری نوٹیفکیشن سے ہوگا۔

اسی طرح، ایمرجنسی کے تحت بنیادی حقوق پر پابندیوں سے متعلق کسی بھی اقدام کی قانونی حیثیت اور دائرۂ کار کا تعین آئین اور جاری کردہ حکم کے مطابق کیا جائے گا۔