جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیا اور کہا کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردوں کی جماعت یا ان کی ساتھی ہے تو پھر اس کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بے اختیار حکومت ہے، دوسروں پر انگلی اٹھانے والوں کو اپنے ماضی کے بیانات بھی یاد رکھنے چاہییں۔
مولانا فضل الرحمان نے 2013 میں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام سے متعلق نواز شریف کے ماضی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف خود جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں پی ٹی آئی کا راستہ روکنے کا مشورہ دیا گیا تھا، جس پر عمل نہ کرنا ان کی غلطی تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ تنقید پی ٹی آئی کے خلاف ہے یا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے کردار اور ماضی کے فیصلوں کو بھی سامنے رکھا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے فوج کے خلاف بیانات کے حوالے سے کہا کہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ماضی میں ایسے بیانات کس نے دیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ فوج کو ’’محکمہ زراعت‘‘ کس نے کہا تھا اور جلسوں میں جنرل باجوہ کا نام کس نے لیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے محسن نقوی کے اس بیان سے متعلق سوال کیا کہ احتجاج کرنے والی جماعت باقی نہیں رہے گی اور اس پر پابندی لگا دی جائے گی۔
اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صحافی کو متعلقہ شخصیت کا حوالہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ضمیر ایسے لوگوں کو جواب دینے کی اجازت نہیں دیتا۔
Lahore 26°C


