لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا کو تفتیشی عمل میں بے قصور قرار دیے جانے کے بعد دونوں نے عبوری ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔

لاہور کی سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے کی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری درکار نہیں جبکہ تحقیقات میں دونوں کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق این سی سی آئی اے نے مقدمے کی تفتیش تبدیل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

تاہم مومنہ اقبال کے وکیل نے تفتیشی عمل پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی تفتیش تبدیل کیے جانے سے متعلق انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل تحقیقات کے بغیر ملزمان کو کلیئر قرار دیے جانے پر سوالات اٹھتے ہیں۔

عدالت کے باہر مومنہ اقبال کا مؤقف

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گی اور اپنے مؤقف کو ہر متعلقہ فورم پر پیش کریں گی۔

اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ مقدمے کی تفتیش ان کی اطلاع کے بغیر تبدیل کی گئی اور اس عمل میں ملی بھگت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ثاقب چدھڑ کے خلاف اپنے دعووں سے متعلق شواہد سوشل میڈیا پر سامنے لائیں گی۔

مومنہ اقبال نے مزید کہا کہ انہیں صلح کی پیشکشیں بھی کی گئیں، تاہم انہوں نے صلح کرنے سے انکار کیا۔ ان کے مطابق وہ اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور اس معاملے کو مزید آگے لے کر جائیں گی۔

اداکارہ نے گفتگو کے دوران ثاقب چدھڑ کے خلاف دیگر سنگین الزامات بھی عائد کیے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ مومنہ اقبال کی شکایت پر مبینہ ہراسگی اور دھمکیوں کے معاملے میں این سی سی آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔