پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پر آئینی ایٹمی حملہ ہوا ہے۔
14 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت نافذ کیے گئے گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ آرٹیکلز 232 اور 234 آئین کا حصہ ہیں۔ تاہم، کسی صوبے میں ان کا نفاذ ایک انتہائی اقدام ہے، جسے آئینی ایٹمی حملے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب ان کے والد سے یہ اقدام اٹھانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے پہلے صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینے کی تجویز دی۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی دعوت دی گئی، لیکن ان کے بقول پی ٹی آئی کے لیے ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے ذاتی سیاست زیادہ اہم رہی، جس کے باعث مذاکرات ناکام ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خودکش حملے کا فیصلہ کرتے ہوئے لانگ مارچ جاری رکھا، جس کے بعد وفاق کے پاس صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کہتے ہوئے کوئی خوشی نہیں ہو رہی کہ پاکستان پیپلز پارٹی صوبے میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے نفاذ کی حمایت کرتی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ بیرسٹر گوہر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ وہ ملک میں جاری دہشت گردی پر بات نہ کرے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں ہو رہی تھیں؟ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں 200 افراد شہید ہوئے، لیکن صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کام کرنے کے بجائے لانگ مارچ میں مصروف رہی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق بیک وقت کتنے محاذوں پر لڑ سکتا ہے؟ ان کے بقول بھارت عالمی سطح پر واضح طور پر کہتا ہے کہ اس کا آپریشن سندور جاری ہے اور پاکستان میں دہشت گردی بھی اسی آپریشن کی صورت میں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت، دہشت گردوں، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور پی ٹی آئی سمیت مختلف محاذوں کا سامنا ہے، اس لیے باقی محاذوں پر لڑنے کے لیے کسی ایک محاذ کو بند کرنا ضروری تھا۔
تاہم، بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ صوبے میں حالات معمول پر آتے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ واپس لے لیا جائے۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ عمران خان کو ٹوتھ پیسٹ فراہم کر دیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شکر کریں کہ انہیں ضیاء الحق کی آمریت کا دور نہیں ملا، جب ان کے نانا کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ان کے بقول، بیرسٹر گوہر نے وہ دور نہیں دیکھا جب ان کے والد کی زبان کاٹی گئی، لیکن ان کے خاندان نے ہمیشہ ذاتیات کے بجائے ریاست کو ترجیح دی۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں، بلکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور خود پارٹی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے غیر آئینی مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت گردی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان کی بہنوں کو دہشت گردی روکنے کے لیے گرفتار کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ وکلا کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی اور انہیں ٹوتھ پیسٹ تک فراہم نہیں کیا جا رہا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان کی بیرک کے گٹر کا ڈھکن کھول دیا گیا ہے اور انہیں گھٹن زدہ ماحول میں رکھا جا رہا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے بیرسٹر گوہر کے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیڈر کو بہترین خوراک اور تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں بحث مکمل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی اقدام کی توثیق کر دی گئی۔
Lahore 23°C
Karachi 30°C


